سرگودھا ڈویژن میں55ارب روپے کے سیوریج منصوبے جاری

سرگودھا ( بیورو چیف) کمشنر سرگودہا ڈویژن حافظ شوکت علی نے کہا ہے کہ ڈویژن بھر میں تقریباً 55 ارب روپے مالیت کے سیوریج منصو بے تیزی سے جاری ہیں جن پر واسا اور متعلقہ لوکل گورنمنٹ ادارے کام کر رہے ہیں۔ ان منصوبو ں کی تکمیل سے نکاسی آب کے دیرینہ مسائل میں واضح کمی آئے گی اور شہری علاقوں میں صفائی کی صورتحال بہتر ہوگی۔ اس امر کا اظہار انہوں نے ایوان صنعت و تجارت کے دورہ کے موقع پر تاجروں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ریونیو فہد محمود ، ایم ڈی واسا ، ایم ڈی ہارٹیکچر اتھارٹی ، سی او ایم سی اور اسسٹنٹ کمشنر سرگودھا بھی ان کے ہمراہ تھے۔ کمشنر نے کہا کہ سرگودھا شہر میں 14 ارب روپے کے خصوصی واسا منصوبے پر بھی پیش رفت جاری ہے۔ مئی تک اہم اور حساس علاقوں کو کلیئر کرنے کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی ہے تاکہ کاروباری سرگرمیاں متاثر نہ ہوں اور شہریوں کو کم سے کم مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ انہوں نے تاجروں پر زور دیا کہ اگر کسی مقام پر کام کی رفتار یا معیار کے حوالے سے کوئی مسئلہ ہو تو فوری طور پر انتظامیہ کو آگاہ کریں۔ رمضان المبارک کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کمشنر نے کہا کہ حکومت کی پوری توجہ عوام کو ریلیف دینے پر ہے۔ مستحق خاندانوں کو راشن کارڈ باعزت طریقے سے ان کے گھروں تک پہنچائے جا رہے ہیں تاکہ قطاروں میں کھڑے ہونے کی روایت ختم ہو اور عزت نفس مجروح نہ ہو۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر ڈویژن بھر میں سہولت بازار فعال کر دیے گئے ہیں جہاں اشیائے ضروریہ مقررہ نرخوں پر دستیاب ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مخیر حضرات کے تعاون سے چاروں اضلاع میں 42 نگہبان دسترخوان شروع کیے جا رہے ہیں جہاں روزانہ بڑی تعداد میں روزہ داروں کی افطار کروایا جائے گا۔ انتظامیہ ان مراکز کی نگرانی بھی کرے گی تاکہ معیار اور نظم و ضبط برقرار رہے۔کمشنر نے واضح کیا کہ نرخ تاجر نمائندگان کی مشاورت سے طے کیے گئے ہیں، اس لیے کسی کو من مانی کی اجازت نہیں ہوگی۔ اگر کسی شے کی قیمت میں تبدیلی درکار ہو تو متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے۔ خلاف ورزی کی صورت میں تین روز کے لیے دکان سیل ، بھاری جرمانہ، گرفتاری اور ایف آئی آر درج کرنے تک کی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان المبارک میں پرائس کنٹرول میکنزم پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا اور پرائس مجسٹریٹس متحرک رہیں گے۔ کمشنر حافظ شوکت علی نے کہا کہ آئندہ دو سے تین برسوں میں سرگودھا میں ترقیاتی منصوبوں کے اثرات نمایاں ہوں گے۔ شہر کی بہتری اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے تاجر برادری کا کردار نہایت اہم ہے۔ انتظامیہ مشاورت کے ساتھ فیصلے کرنا چاہتی ہے تاکہ پائیدار حل سامنے آئیں۔ اس موقع پر چیمبر آف کامرس کے صدر خواجہ یاسر قیوم نے سپاس نامہ پیش کیا اور تاجروں کو درپیش مسائل سے آگاہ کیا۔ عامر عطاء باجوہ اور دیگر نمائندگان نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ انتظامیہ اور بزنس کمیونٹی کے درمیان رابطہ مضبوط ہے اور سرگودھا معاشی اعتبار سے اہم شہر ہے۔ مشترکہ طور پر مسائل کے حل کے لیے کام جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔ کمشنر سرگودھا نے ایوان صنعت و تجارت دفتر کے سبزہ زار میں شجر کاری کے سلسلہ میں پودا بھی لگایا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں