اشرافیہ اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے

فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے سرپرست اعلی و صدر انجمن تاجران سٹی خواجہ شاہدرزاق سکانے پاکستا ن کے بیرونی قرضوں کا حجم 138 ارب ڈالر کی خطرناک حد تک پہنچنے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہو ئے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ وطن عز یز میں پیدا ہونیوالابچہ ساڑھے 3 لاکھ روپے کا مقروض پیدا ہوتا ہے آ دھا بجٹ عوام کی فلاح و بہبود پر خرچ ہونیکی بجائے عالمی مالیاتی اداروں اور غیر ملکی قرضوں اور سود کی ادائیگی کیلئے چلاجاتا ہے خواجہ شاہدرزاق سکانے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ عوام کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والے قومی خزانہ کی بندر بانٹ کرنے کی بجائے ملکی معیشت کی بنیادوں کے سدھارنے اور برآمدات بڑھانے پر توجہ دی جائے اور عام آدمی پر ٹیکس کا بوجھ ڈالنے کی بجائے اشرافیہ اور غیر دستاویزی معیشت کو ٹیکس نیٹ میں لانا ہوگا انہوں نے کہا کہ اگر اب بھی معاشی استحکام کو اولیت نہ دی گئی توآنے والی نسلوں کا مستقبل قرضوں اور سود کی ادائیگیوں کی نذر ہو کر رہ جائیگاجنرل سیکرٹری شیخ سعیداحمد ،ڈپٹی سیکرٹری میاںریاض شاہد نے کہا کہ دنیاڈیجیٹل سسٹم کی طرف جا رہی ہے جبکہ ہمارے پالیسی میکرز اس حوالے سے صرف اعلانات و بیانات پر ہی ا کتفا کر رہے ہیں ایسے میں بیرونی سرمایہ کار کس طرح پاکستان میں سرمایہ کا ری کیلئے آمادہ ہونگے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں