ملکی زرعی پیداوار میں پنجاب کا 70فیصد سے زائد حصہ ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) تاشقند ریجن کے گورنر کی قیادت میں ازبکستان کے اعلی سطحی وفد کی لاہور آمد ہوئی۔ وفد کے شرکا کی سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو اور سیکرٹری لائیو سٹاک احمد عزیز تارڑ سے اہم میٹنگ ہوئی۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل انفارمیشن محکمہ زراعت پنجاب نوید عصمت کاہلوں اور کنسلٹنٹ محکمہ زراعت پنجاب ڈاکٹر محمد انجم علی سمیت دیگر افسران بھی موجود تھے۔ وفد کے دورہ کا مقصد باہمی تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم بنانا تھا۔وفد کے شرکا سے زرعی اجناس و ڈیری پراڈکٹس بارے تفصیلی گفتگو ہوئی۔ اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ کل ملکی زرعی پیداوار میں پنجاب کا حصہ 70 فیصد سے زائد ہے۔ انہوں نے کہا کہ کپاس، گندم، مکئی، چاول، کماد، آلو، کنو اور آم پنجاب کی اہم فصلیں ہیں۔ افتخار علی سہو نے بتایا کہ گزشتہ ماہ ازبکستان کے صدر نے پاکستان کا دورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ازبکستان نے پاکستان سے3 لاکھ ٹن آلو درآمد کرنے میں دلچسپی کا اظہار کیا۔افتخار علی سہو نے کہا کہ زرعی تحقیق کے شعبہ میں دونوں ممالک کو باہمی تعاون کے وسیع مواقع میسر ہیں۔ انہوں نے کہاکہ زراعت و لائیو سٹاک کے محکموں اور ازبکستان کی حکومت کے ساتھ مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیئے جائیں گے۔ اس ضمن میں ورکنگ گروپس کے لئے ایک جامع ایجنڈا تیار کیا جا رہا ہے اور ایجنڈا پر باقاعدگی سے آن لائن میٹنگز منعقد کی جائیں گی۔ افتخار علی سہو نے مزید کہا کہ دوطرفہ بزنس ٹو بزنس تعاون کو بھی بڑھایا جائے گا۔اس موقع پر سیکرٹری لائیو سٹاک پنجاب احمد عزیز تارڑ نے کہا کہ پنجاب ملکی کل پیداوار کا 62 فیصد دودھ پیدا کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ حلال گوشت اور پولٹری پراڈکٹس کی ازبکستان کو ایکسپورٹ کے حجم میں اضافہ کے امکانات موجود ہیں۔ اس موقع پر گورنر تاشقند زوئیرمرزایف(Zoyir Mirzayev) نے کہا کہ پاکستانی چاول کی ازبکستان میں بڑی ڈیمانڈ ہے اور ازبکستان پاکستانی آلو کی بڑی مارکیٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کل ریجنل تنا کی وجہ سے درآمدی و برآمدی رکاوٹیں درپیش ہیں۔ گورنر تاشقند نے کہا کہ ازبکستان آلو کی کاشت و ریسرچ کیلئے زمین و دیگر وسائل فراہم کرنے کو تیار ہے جبکہ پاکستانی فارمرز کو کیٹل فارمنگ کیلئے ازبک حکومت تعاون کرے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں