آفات سے نمٹنے کیلئے تیاری ناگزیر

کراچی (بیورو چیف) مشیرِ وزیراعلی سندھ برائے محکمہ بحالی گیانچند ایسرانی کی زیر صدارت صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی سندھ کے بورڈ کا 23واں اجلاس پی ڈی ایم اے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوا جس میں سیکریٹری بحالی رفیق مصطفی شیخ، ڈی جی پی ڈی ایم اے سلمان شاہ، ڈائریکٹر ایڈمن اینڈ فنانس شاہ حسین شاہ، ڈائریکٹر آپریشنز،اسپیشل سیکریٹری محکمہ بلدیات آغا فخر حسین، ایڈیشنل سیکریٹری محکمہ آبپاشی عبدالمالک بلو ، ایڈیشنل ریلیف کمشنر ارشد ابراہیم،ڈپٹی سیکریٹری فنانس شاہدہ جامرو سمیت اعلی حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں 22ویں بورڈ میٹنگ کے فیصلوں کی توثیق اور پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا جبکہ مختلف انتظامی، مالیاتی اور ہنگامی تیاریوں سے متعلق اہم امور پر غور کیا گیا۔ اجلاس میں پی ڈی ایم اے کے کنٹریکٹ ملازمین کے معاہدوں میں توسیع دینے کی تجویز پیش کی گئی جبکہ حکومت کی پالیسی کے مطابق تنخواہوں میں بھی اضافے کی تجویز بھی زیر غور آئی۔ اجلاس میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ فنڈ (PDMF) میں موجود رقم کی سرمایہ کاری پر بھی غور کیا گیا اور محکمہ خزانہ کی سفارش کے مطابق اس رقم کو مارکیٹ ٹریژری بلز یا ٹرم ڈپازٹ کے ذریعے سرمایہ کاری کرنے کی تجویز زیر بحث آئی اور اس سلسلے میں سندھ بینک سمیت دیگر بینکوں کے ساتھ مشاورت کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ اسٹیٹ بینک کے قواعد و ضوابط کی مکمل پابندی ہوگی۔ اجلاس میں مون سون سیزن سے قبل ہنگامی تیاریوں کے حوالے سے بھی تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ بورڈ کو آگاہ کیا گیا کہ پی ڈی ایم اے کے پاس موجود کشتیوں اور دیگر ریسکیو آلات کی مرمت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہے تاکہ سیلاب یا کسی بھی ہنگامی صورتحال میں انہیں مثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔ اجلاس میں ڈی واٹرنگ پمپس، ایمرجنسی ریسکیو گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس، جنریٹرز اور دیگر ضروری آلات کی دستیابی اور تیاریوں پر بھی غور کیا گیا تاکہ مون سون کے دوران ممکنہ آفات سے نمٹا جاسکے۔اجلاس میں گزشتہ سال مون سون کے دوران ہونے والے نقصانات اور امدادی سرگرمیوں پر بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس کے مطابق 2025 میں چار بڑے بارشوں کے سلسلے ریکارڈ کیے گئے جبکہ بارشوں کے باعث 98 افراد جاں بحق، 87 زخمی اور 577 مویشی ہلاک ہوئے جبکہ تقریبا 1 لاکھ 98 ہزار افرادمتاثر ہو کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔ اس موقع پر گیانچند ایسرانی نے ہدایت دی کہ مون سون سے قبل تمام مشینری اور ریسکیو آلات مکمل طور پر فعال ہونے چاہئیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں عوام کو فوری امداد فراہم کی جا سکے۔امدادی سامان کی تقسیم اور ذخائر کے حوالے سے مکمل ریکارڈ مرتب کیا جائے اور ہر ضلع سے اسٹاک کی تفصیلی رپورٹ حاصل کی جائے تاکہ وسائل کے شفاف استعمال کو یقینی بنایا جا سکے۔ اجلاس میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا کہ امدادی سامان کی فراہمی کے لیے ایک واضح طریقہ کار اور ڈیجیٹل نظام وضع کیا جائے تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری اور منظم انداز میں امدادی کارروائیاں کی جا سکیں۔ اجلاس میں آئندہ ترقیاتی پروگرام کے تحت کراچی، جامشورو اور سکھر میں موجود ہیومینیٹیرین ریسپانس فیسلٹیز کی اپ گریڈیشن، میرپورخاص میں گودام کے قیام اور بدین میں نئی ہیومینیٹیرین ریسپانس فیسلٹی کے قیام کی تجویز بھی پیش کی گئی جسے اصولی طور پر منظور کر لیا گیا۔ اجلاس میں ریلیف آئٹمز کی نگرانی اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی انسپیکشن اور داخلی آڈٹ کے نظام کو بھی منظوری دی گئی۔ اس موقع پر مشیر وزیراعلی سندھ گیانچند ایسرانی نے کہا کہ پی ڈی ایم اے کو مضبوط اور مثر ادارہ بنانے کے لیے انتظامی اصلاحات، جدید ٹیکنالوجی اور شفاف نظام ناگزیر ہیں اور سندھ حکومت ہر ممکن اقدامات کر رہی ہے تاکہ قدرتی آفات کے دوران متاثرہ افراد کو فوری اور مثر امداد فراہم کی جا سکے۔ انسانی جانوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح اور اس مقصد کے لیے پی ڈی ایم اے کی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے پیشگی تیاری انتہائی ضروری ہے اور حکومت سندھ عوام کے جان و مال کے تحفظ کے لیے تمام وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں