نوے فیصد زرعی زمین نائٹروجن کی کمی کا شکار ہے ،ماہرین

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)زرعی ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ نوے فیصد زرعی زمین نائٹروجنکی کمی کا شکار ہے، جبکہ کٹائی کے بعد ہونیوا لے (پوسٹ ہارویسٹ)پندرہ سے بیس فیصد نقصانات کسانوں پر مالی بوجھ بڑھا رہے ہیں۔ جس سے نبرد آزما ہونے کیلئے کسان ماہرین کی سفارشات کو اپنائیں ان خیالات کا اظہار جامعہ زرعیہ فیصل آباد ، محکمہ زراعت توسیع پنجاب، ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ اور فاطمہ گروپ کے اشتراک سے موضع کھائی میں محمد عظیم ترانہ کے فارم پر منعقدہ ”فارمنگ ڈے” کے موقع پر کیا گیا۔ ریجنل ایگریکلچر فورم (وسطی پنجاب)کے تحت منعقدہ اس تقریب میں سات یونین کونسلوں اور انیس دیہات کے کسانوں نے شرکت کی۔وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے اپنے ورچوئل خطاب میں کہا کہ مذ کورہ فورم کے تحت تمام شراکت داروں کے باہمی تعاون سے زرعی مسائل کا حل اورجدید ٹیکنالوجی کو کاشتکاروں تک پہنچا نے کیلئے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ زراعت کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔ انہوں نے حکومت کے زرعی ترقیاتی اقدامات کو سراہا۔ ڈین کلیہ زراعت پروفیسر ڈاکٹر غلام مرتضی نے کہا کہ کھادوں کا غیر متناسب استعمال نہ صرف لاگت بڑھا رہا ہے بلکہ پیداواری صلاحیت کی راہ میں بھی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کسانوں پر زور دیا کہ وہ جدید مشینری، بیج کی نئی اقسام اور پانی کے بہتر استعمال کے حوالے سے ماہرین کی سفارشات پر عمل کریں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں