لاہور (بیوروچیف) پنجاب میں گورننس سیکٹر کے لیے آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تجاویز تیار کر لی گئی ہیں، جنکے تحت مجموعی طور پر61ارب 65 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق پولیس کے بجٹ میں اضافے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ اس کے لیے 24ارب30کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ اسی طرح بورڈ آف ریونیو کے لیے 14 ارب 80کروڑ روپے، جبکہ عدلیہ کے لیے 8 ارب 10 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔محکمہ داخلہ کے لیے 4ارب 50کروڑ روپے اور لا اینڈ پارلیمنٹری افیئرز کے لیے4ارب80کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ایس اینڈ جی اے ڈی کے لیے3ارب20کروڑ روپے، صوبائی اسمبلی کے لیے 1 ارب 60کروڑ روپے، جبکہ پبلک پراسیکیوشن کے لیے 15کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔ حکام کے مطابق یہ بجٹ تجاویز حتمی منظوری سے مشروط ہیں اور ان میں رد و بدل کا امکان برقرار ہے، جبکہ گورننس کی بہتری کے لیے مزید اضافہ بھی متوقع ہے۔ دستاویزات کے مطابق نئی تجاویز رواں مالی سال کے نظرثانی شدہ بجٹ کے مقابلے میں کم ہیں، کیونکہ موجودہ مالی سال میں گورننس سیکٹر کا نظرثانی شدہ بجٹ 80 ارب 98 کروڑ روپے ہے۔



