منڈی صادق گنج کے ہوٹلز فحاشی کے اڈوں میں تبدیل

منڈی صادق گنج(نامہ نگار) ہوٹلز فحاشی کے اڈوں میں تبدیل ‘ہوٹلز پر خواتین کو بطور ویٹر رکھ کر سادہ لوح دیہاتیوں اور نوجوان لڑکوں سے لوٹ مار کی جاتی ہے متعدد بار جھگڑے بھی ہو چکے’ ہوٹل مالکان نے بطور ویٹر رکھی گئی خواتین کو جسم فروشی کی اجازت بھی دے رکھی ہے ذرائع کے مطابق کچھ ہوٹل مالکان تو باقاعدہ حصہ لیتے ہیں’شہر کے گردونواح میں موجود ہوٹلز پرخواتین کو بطور ویٹر رکھ کر اپنے ہوٹلز کی آمدن بڑھانے کا سلسلہ کچھ عرصہ قبل شروع ہوا تھا جس ہوٹل پر بھی خواتین کو بطور ویٹر رکھا جاتا وہیں سرشام منچلوں اور اوباش قسم کے نوجوانوں کے ڈیرے لگنے شروع ہو جاتے تھے جو کہ رات گئے تک وہیں ڈیرے ڈالے رکھتے تھے جبکہ دوسری جانب سادہ کوح دیہاتی بھی ان خواتین ویٹرز کے ہاتھوں چائے پینے ان ہوٹلز کا رخ کرتے اور صرف 50 روپے مالیت کی چائے کا 500 بھی ادا کر دیتے ہیں بہت سارے نوجوان اور دیہاتی افراد ایسے بھی ہیں جن سے یہ خواتین نائٹ ڈیوٹی کے بعد ملاقات کا ٹائم طے کر کے ان سے رقم لے کر غائب ہو جاتیں اب گندم کا سیزن آتے ہی ایسے ہی ایسے ہوٹل مالکان نے دوسرے علاقوں سے بھی خواتین کو لا کر بطور ویٹر رکھ لیا تا کہ سادہ لوح دیہاتیوں سے ان خواتین کے ذریعے سے مزید لوٹ مار کی جا سکے

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں