امریکہ ایران مذاکرات اب آگے کیا ہو گا؟

اسلام آباد میں ہونے والے امریکہ ایران امن مذاکرات کسی معاہدے کے بغیر ہی ختم ہونے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پائیدار امن کے حصول پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔اطلاعات کے مطابق ایران کے جوہری پروگرام سمیت کئی بنیادی اختلافات کے باعث دونوں ممالک میں معاہدہ نہیں ہو سکا ۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات1979ء کے انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے درمیان اعلیٰ ترین سطح کی پہلی بات چیت تھے۔ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی سفارت کاری ایک دن میں نہیں ہو سکتی۔ مذاکرات کے آغاز سے پہلے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ عمل اتنی جلدی تکمیل تک نہیں پہنچے گا۔ یہ امکان کم ہے کہ ایران امریکی الٹی میٹم کے سامنے جھکے گا، وہ ہتھیار ڈالنے کے ارادے سے اسلام آباد نہیں آیا تھا۔ ایران اس سوچ کے ساتھ اسلام آباد آیا تھا کہ اس نے یہ جنگ نہیں ہاری، بلکہ ایران سمجھتا ہے کہ وہ جیت رہا ہے، اسے لگتا ہے کہ اسے برتری حاصل ہے، وہ اب بھی جواب دے رہا ہے اور آبنائے ہرمز کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے میں کامیاب رہا ہے۔جب جے ڈی وینس نے اسلام آباد سے واپسی کے لیے طیارے پر سوار ہوتے ہوئے ہاتھ ہلائے، تو بعض تجزیہ کاروں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کو بھی الوداع کہہ دیا گیا ہے؟کیا دونوں فریق اپنے اپنے دارالحکومت لوٹ کر سفارت کاری کو مزید وقت دیں گے؟ یا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ فیصلہ کریں گے کہ اب کشیدگی بڑھانے کا وقت آ گیا ہے؟ایران میں برطانیہ کے سابق سفیر نکولس ہوپٹن کا ماننا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے واقعات میں کچھ مثبت اشارے بھی موجود ہیں۔وہ کہتے ہیں دونوں فریقوں نے اس عمل کو مثبت انداز میں لیا۔ انہوں نے دن کا غیر معمولی حد تک طویل وقت بات چیت میں گزارا۔ اور مذاکرات کا انداز ایسا تھا کہ عمومی موقف کے ساتھ ساتھ تکنیکی تفصیلات پر بھی گفتگو ہو سکی۔ان کا کہنا ہے کہ اگرچہ دونوں طرف سے انتہائی سخت مطالبات سامنے آئے اور ان کے درمیان خلیج بدستور وسیع ہے لیکن اس کے باوجود دونوں فریق مزید مذاکرات کی توقع رکھے ہوئے ہیں۔یہ معاہدہ اگر ہوا تو ممکنہ طور پر اس میں نئے عناصر شامل ہوں گے اور یہ 2015 ء کے معاہدے سے بھی زیادہ پیچیدہ ہو گا۔ مذاکرات کرنے والے ایرانی وفد کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایکس پر پوسٹ کیا اور ایرانی وفد کا اعتماد حاصل کرنے میں ناکامی کا ذمہ دار امریکی فریق کو ٹھہرایا، تاہم انہوں نے مزید بات چیت کا امکان بھی ظاہر کیا ہے۔ذرائع کے مطابق باضابطہ مذاکرات کے خاتمے کے باوجود پاکستان کے ذریعے امریکی اور ایرانی مندوبین کے درمیان بالواسطہ بات چیت جاری ہے۔ اس بات کی باضابطہ تصدیق امریکہ نے کی ہے اور نہ ہی ایران نے، ماضی کی طرح اس بار بھی، ثالثوں کے ذریعے ہونے والی گفتگو کی نوعیت کو سمجھنا مشکل رہا ہے۔تاہم اس سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ثالثی اور خفیہ سفارتی رابطوں کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں ہوئے۔ ایران کے پاس اب بھی امریکہ پر دباو ڈالنے کی صلاحیت موجود ہے، خاص طور پر عالمی تجارت میں طویل خلل، ایرانی قیادت اور اس کے اتحادی گروہوں کے برقرار رہنے اور افزودہ یورینیم کے ذخائر کے باعث۔ ایران کو مذاکرات کی کوئی جلدی نہیں، گیند اب امریکہ کے کورٹ میں ہے۔سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ سخت طاقت کا استعمال ایران کو اس مقام تک نہیں لا سکا، جہاں ایران سمجھے کہ اب اسے رعایتیں دینا پڑیں گی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ردعمل پر اب گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔بالآخر امریکی صدر کو دو باتوں کا خیال رکھنا ہوگا، ایک (دوبارہ جنگ)اندرون ملک انتہائی غیر مقبول ہو گی۔ٹرمپ آگاہ ہوں گے کہ کسی بھی طویل عالمی تنازع کے ان کے ملک میں کیا اثرات ہوں گے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مہنگائی بڑھ رہی ہو اور نومبر کے وسط مدتی انتخابات قریب آ رہے ہوں۔ دوسری بات کا امریکی صدر کو خیال رکھنا ہو گا وہ یہ ہے کہ اس سے مقصد پورا نہیں ہو گا، ایران جوابی کارروائی کرے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں