اسلام آباد ( بیو رو چیف )ایک کلینیکل آنکولوجی کمپنی کی جانب سے دعوی کیا گیا ہے کہ امریکا میں لبلبے کے آخری مرحلے کے کینسر کے علاج کے لیے ایک نئی گولی کی آزمائش کی گئی ہے جو روایتی کیموتھراپی کے مقابلے میں مریضوں کی زندگی تقریبا دوگنی کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔تحقیق میں معلوم ہوا کہ لبلبے کے کینسر کے مریض (جن کی موت سے بچ جانے کی شرح دیگر کینسرز کے مقابلے میں سب سے کم سمجھی جاتی ہے)اگر روزانہ ایک بار لی جانے والی دوا ڈریکسونراسب استعمال کریں تو ان میں موت کا خطرہ صرف کیموتھراپی کروانے والوں کے مقابلے میں 60 فیصد تک کم ہو سکتی ہے ۔یہ نتائج 500 افراد پر مشتمل فیز تھری ٹرائل میں سامنے آئے، جو اس دوا کو ایک زیادہ موثر اور کم تکلیف دہ علاج بنا سکتے ہیں۔




