جڑانوالہ(نامہ نگار) سابق اقلیتی کونسلر شکیل بھٹی نے پادری بابو بوٹا بہادر و دیگران کے ہمراہ کرسچن کالونی چرچ میں پریس کانفرنس کے دورا ن میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ماریہ شہباز کیس کے عدالتی فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے یکسر مسترد کر دیا ہے اور کہا کہ عدالت نے کم عمر بچی کی شادی بارے جو ریمارکس دئیے گئے ہیں اس سے پوری کرسچن کمیونٹی کی دل آزاری ہوئی ہے مذکوران نے مزید کہا کہ جبراً شادی کروانا انتہائی سنگین جرم کے زمرے میں آتا ہے، 18سال سے کم عمر بچوں کو اگر قومی شناختی کارڈ جاری نہیں کیا جاتا تو کم عمری کی شادی کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے اس معاملے پر پارلیمنٹ کے فورم پر موثر قانون سازی کی جائے تاکہ کم عمر بچیوں کی شادیوں کو روکا جا سکے مذکوران نے ماریہ شہباز کیس کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کو ہرصورت یقینی بنایا جائے پریس کانفرنس کے دوران کرسچن کمیونٹی کے افراد مرد/خواتین اور بچوں نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ماریہ شہباز کیس بارے تحفظات درج تھے۔




