جڑانوالہ (نامہ نگار) محکمہ فوڈ اتھارٹی کی مبینہ مجرمانہ خاموشی کے باعث چکی مالکان مبینہ طور غیر معیاری ملاوٹ شدہ آٹے کی دھڑلے سے فروخت کرنے لگے،گندم کی پسائی کے دورا ن چکی مالکان کی جانب سے استعمال شدہ پھپھوندی لگی سوکھی روٹیوں کے ٹکڑوں کو شامل کیا جانے کا انکشاف۔ملاوٹی آٹے سے تیار ہونیوالی روٹی کی رنگت مبینہ طور پر ہلکی سیاہ ہو جاتی ہے،تفصیلات کے مطابق محکمہ فوڈ اتھارٹی کی مبینہ مجرمانہ خاموشی کے باعث جڑانوالہ اندرون شہر کے مختلف مقامات پر چکی مالکان گندم کی پسائی کے دوران مبینہ طور پر استعمال شدہ پھپھوندی لگی سوکھی روٹیوں کا استعمال کر رہے ہیں تیار شدہ باعث ملاوٹی آٹے کی فروخت و استعمال سے شہری پیٹ کی مختلف بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں چکی مالکان مبینہ طور پر ملاوٹی آٹے کی مہنگے داموں فروخت کرکے عوام کو بیماریوں میں مبتلا کر رہے ہیں،شہریوں کا کہنا ہے کہ ملاوٹی آٹے سے تیار ہونیوالی روٹی کی رنگت مبینہ طور پر ہلکی سیاہ ہو جاتی ہے اور کھاتے وقت ذائقہ بھی تبدل ہو جاتا ہے ملاوٹی آٹے کے استعمال سے بچوں اور شہریوں کی صحت بھی متاثر ہو رہی ہے شہریوں کا کہنا ہے کہ محکمہ فوڈ اتھارٹی کی ٹیمیں مبینہ طور پر فوٹو سیشن تک محدود ہو چکی ہے اور آٹا چکی مالکان کو چیک کرنے کی زحمت تک گوارہ نہیں کرتی ہیں جسکے باعث چکی مالکان بلاخوف و خطر اپنا مکروہ دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں ملاوٹی آٹے کی فروخت انتہائی گھنانا اور شرمناک فعل ہے چکی مالکان نے مبینہ طور پر چند ٹکوں کی خاطر انسانی صحت کیساتھ کھیلنے کی تمام حدیں پار کر دی ہیں عوامی سماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب، صوبائی وزیر خوراک پنجاب،کمشنر، ڈپٹی کمشنر فیصل آباد،ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ اتھارٹی،اسسٹنٹ کمشنر جڑانوالہ و دیگران سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ ملاوٹی آٹے کی تیاری و فروخت میں ملوث چکی مالکان کیخلاف سخت سے سخت کارروائی عمل میں لا کر چکی مالکان پر مقدمات کا اندراج کیا جائے۔




