اسلام آباد(بیوروچیف) نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار اور ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی کے درمیان رابطہ ہوا جس میں خطے کی مجموعی صورتحال اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق ٹیلیفون پر گفتگو کے دوران پاکستانی اور ایرانی وزرائے خارجہ نے موجودہ علاقائی پیش رفت پر تفصیلی بات چیت کی۔ایرانی وزیر خارجہ نے مختلف فریقین کے درمیان مثبت اور تعمیری کردار ادا کرنے پر پاکستان کی کاوشوں کو سراہا اور ثالثی کی سنجیدہ کوششوں کی تعریف کی۔اس موقع پر اسحاق ڈار نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں تعمیری روابط کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسائل کا پائیدار حل صرف مکالمے اور سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے، اور یہی راستہ دیرپا امن و استحکام کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان خطے میں کشیدگی کم کرنے اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان میں تعینات ایرانی سفیر رضا امیری مقدم نے بھی ایرانی خبر ایجنسی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہیں اور بطور ثالث ملک پاکستان کی تبدیلی کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔دریں ثناء ۔واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی نقل و حرکت آج سے بحال کرنے کا اعلان کردیا، جہازوں کی نقل و حرکت امریکی وقت کے مطابق پیر کی صبح سے شروع ہوگی۔ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ دنیا بھر کے متعدد ممالک، جو مشرق وسطی میں جاری تنازع کا حصہ نہیں، انہوں نے امریکہ سے درخواست کی ہے کہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ان کے جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے، یہ ممالک اس تنازع سے کسی بھی طرح وابستہ نہیں بلکہ محض غیر جانبدار اور متاثرہ فریق ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایران، مشرق وسطی اور امریکہ کے مفاد میں ان ممالک کو یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ ان کے جہازوں کو محفوظ طریقے سے ان محدود آبی گزرگاہوں سے نکالا جائے گا تاکہ وہ اپنی تجارتی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔صدر ٹرمپ نے کہا کہ میں نے اپنے نمائندوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ متعلقہ ممالک کو آگاہ کریں کہ امریکہ ان کے جہازوں اور عملے کو بحفاظت نکالنے کیلئے بھرپور کوشش کرے گا، زیادہ تر ممالک نے واضح کیا ہے کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں آئیں گے جب تک علاقہ بحری سفر کیلئے محفوظ نہیں ہو جاتا۔انہوں نے اعلان کیا کہ یہ عمل پروجیکٹ فریڈم کے نام سے مشرق وسطی کے وقت کے مطابق آج صبح سے شروع کیا جائے گا، مجھے علم ہے کہ میرے نمائندے ایران کے ساتھ مثبت مذاکرات کر رہے ہیں، جو ممکنہ طور پر تمام فریقین کیلئے مثبت نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ٹرمپ کے مطابق جہازوں کی نقل و حرکت کا مقصد صرف ان افراد، کمپنیوں اور ممالک کو سہولت فراہم کرنا ہے جو اس تنازع میں کسی بھی طرح قصوروار نہیں بلکہ حالات کا شکار ہیں۔انہوں نے اسے ایک انسانی ہمدردی پر مبنی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ خاص طور پر ایران سمیت مشرق وسطی کے ممالک کیلئے یہ خیر سگالی کا پیغام ہو سکتا ہے، کئی جہازوں پر خوراک اور دیگر ضروری اشیا کی قلت پیدا ہو رہی ہے جو عملے کی صحت اور صفائی کیلئے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر اس انسانی ہمدردی کے عمل میں کسی قسم کی رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی گئی تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی افواج آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارتی جہاز رانی کیلئے نیوی گیشن کی آزادی کو بحال کرنے کیلئے آج سے امدادی منصوبہ شروع کریں گی۔سینٹ کام کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کی طرف سے ہدایت کے مطابق مشن آزادانہ نقل و حمل کے خواہشمند تجارتی جہازوں کی مدد کرے گا۔امریکی میڈیا نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے نئے نظام میں تجارتی جہازوں کی حفاظت کیلئے امریکی بحریہ کے جہاز شامل ہونا لازمی نہیں تاہم اس گزر گاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر ایران کے ممکنہ حملے روکنے کیلئے امریکی بحریہ قریب ہی ہوگی۔دریں ثنائ۔واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک) ترجمان امریکی سینٹرل کمانڈ کے مطابق امریکا نے خلیج عمان سے قبضے میں لیا گیا ایرانی جہاز عملے سمیت پاکستان منتقل کر دیا گیا ہے تاکہ اسے ایران واپس بھیجا جا سکے۔سینٹ کام کے ترجمان کیپٹن ٹِم ہاکنز کے مطابق آج امریکی افواج نے ایم وی توسکا کے 22 عملے کے اراکین کو ایران واپسی کے لیے پاکستان منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا ہے، جب کہ 6 دیگر مسافروں کو گزشتہ ہفتے ہی منتقل کر دیا گیا تھا۔ترجمان کا کہنا تھا کہ جہاز کو اس کی اصل ملکیت رکھنے والی انتظامیہ کے حوالے کرنے کے لیے اقدامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس بحری جہاز کو گزشتہ ماہ ایران کے خلاف امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کی کوشش کے دوران روکا اور ضبط کیا گیا تھا۔




