پٹرولیم قیمتوں کا ہفتہ وار تماشہ

پاکستان کی سیاسی اور معاشی تاریخ میں عوامی اعصاب کے ساتھ کھیلنے کے نت نئے طریقے ایجاد کیے گئے ہیں، لیکن موجودہ حکومت نے اوگرا سمری کے نام پر جو ہفتہ وار ہیجانی کیفیت پیدا کرنے کا وطیرہ اپنا رکھا ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔ہر ہفتے کے اختتام پر باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت یہ افواہ پھیلائی جاتی ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 100 سے 200روپے فی لیٹر کا بڑا اضافہ ہونے والا ہے۔ اس خبر کا پھیلنا ہوتا ہے کہ پورے ملک میں ایک کہرام مچ جاتا ہے، لوگ اپنے روزمرہ کے کام چھوڑ کر پٹرول پمپوں کی جانب بھاگتے ہیں اور کلومیٹر لمبی قطاروں میں لگ جاتے ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ کئی گھنٹوں کی ذلت اور قطاروں میں کھڑے ہو کر ایندھن حاصل کرنے کے بعد جب حکومتی فیصلہ سامنے آتا ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ اضافہ صرف 5 یا 10 روپے کیا گیا ہے۔ یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ حکمران سیاسی بصیرت اور عوامی نفسیات سے مکمل طور پر عاری ہیں اور صرف اپنے سیکرٹریوں اور مشیروں کے بریف کیسوں میں بند لکیر کے فقیر بنے ہوئے ہیں۔حکومت کا یہ حربہ کہ “اوگرا نے تو بڑا اضافہ مانگا تھا مگر ہم نے عوام پر رحم کھا کر معمولی اضافہ کیا”، اب ایک بھونڈا مذاق بن چکا ہے۔ اس پالیسی کے پیچھے چھپی سیاسی چالاکی دراصل معیشت کے لیے زہرِ قاتل ثابت ہو رہی ہے۔ جب عوام ہر ہفتے خوف کے عالم میں پینک بائینگ (اضطراری خریداری) کرتے ہیں، تو اس سے نہ صرف مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہوتی ہے بلکہ پٹرول پمپوں پر گاڑیوں کا اژدھام ایندھن کی بچت کے بجائے اسے ضائع کرنے کا سبب بنتا ہے۔ وہ چند روپے جو ایک عام شہری بچانے کی کوشش کرتا ہے، وہ پمپ تک پہنچنے اور لائن میں لگنے کے دوران اضافی ایندھن جلانے کی نذر ہو جاتے ہیں۔ حکومتی پالیسی ساز یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ معیشت کو چلانے کے لیے محض بیوروکریسی کے مشورے کافی نہیں ہوتے، بلکہ سیاسی تدبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس وقت ملک توانائی کے سنگین بحران سے گزر رہا ہے، ایسے میں حکومت کو ایسی پالیسیاں بنانی چاہئیں جو عوام کو ایندھن کے موثر اور کفایتی استعمال کی ترغیب دیں، نہ کہ انہیں ذخیرہ اندوزی اور اضطراری خریداری پر مجبور کریں۔ اس ہفتہ وار تماشے نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیا ہے اور معیشت کو بے یقینی کے بھنور میں دھکیل دیا ہے۔ اگر حکومت واقعی مخلص ہے، تو اسے اس ہیجانی کلچر کو ختم کر کے ایک مستحکم اور طویل مدتی قیمتوں کا نظام وضع کرنا ہوگا جو عالمی منڈی کے حقائق سے مطابقت رکھتا ہو۔ عوام کو ریلیف دینے کا دعویٰ کرنے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ سستی شہرت کے لیے کیے گئے یہ انتظامی فیصلے نہ صرف ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر پر بوجھ بن رہے ہیں بلکہ قومی توانائی کے بحران کو بھی مزید ہوا دے رہے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مشیروں کی عینک اتار کر عوامی مفاد میں آزادانہ اور سیاسی بصیرت پر مبنی فیصلے کیے جائیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں