ایران سے مذاکرات یا جنگ؟

واشنگٹن(مانیٹرنگ ڈیسک) امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آج قومی سلامتی اجلاس طلب کر لیا ہے جس میں ایران کے خلاف جنگ پھر سے شروع کرنے پر غور کیا جائے گا۔ذرائع کے مطابق حالیہ مذاکرات کسی نتیجے پر نہ پہنچنے کے بعد واشنگٹن میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ ایران جوہری پروگرام کے معاملے پر خاطر خواہ لچک دکھانے کے لیے تیار نہیں، اسی تناظر میں امریکی انتظامیہ دبا بڑھانے کے نئے طریقوں پر غور کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ بظاہر کسی بڑے تصادم سے گریز چاہتے ہیں اور وہ ایک ایسے معاہدے کے خواہاں ہیں جو ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کر سکے تاہم امریکی مطالبات مسترد ہونے کے بعد وائٹ ہاس میں عسکری آپشنز دوبارہ اہمیت اختیار کر گئے ہیں۔امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اجلاس میں نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی مندوب اسٹیو وٹکوف، وزیر خارجہ مارکو روبیو، وزیر جنگ پیٹ ہیگسیتھ، سی آئی اے کے سربراہ جان ریٹکلیف اور چئیرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین کے شرکت کرنیکا امکان ہے۔دعویٰ کیا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کسی قسم کے فوجی ایکشن کی جانب مائل ہو رہے ہیں تاکہ ایران پر دباو بڑھایا جائے اور نیوکلیئر پروگرام پر رعایتیں حاصل کی جائیں۔امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ زیرِ غور تجاویز میں آبنائے ہرمز میں بحری نگرانی کے مشن کو دوبارہ فعال کرنا بھی شامل ہے جبکہ ایران کے ان اہداف پر حملوں کی تجویز بھی زیرِ غور ہے جن کی نشاندہی پہلے ہی کی جا چکی ہے مگر اب تک کارروائی نہیں ہوئی۔دوسری جانب اسرائیلی قیادت بھی واشنگٹن پر دبا ڈال رہی ہے کہ ایران کے افزودہ یورینیم ذخائر کو غیر مثر بنانے کے لیے خصوصی آپریشن پر غور کیا جائے تاہم امریکی صدر اس منصوبے کے ممکنہ خطرات کے باعث محتاط دکھائی دیتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران سے متعلق امریکی فیصلوں پر صدر ٹرمپ کے متوقع دورہ چین کے ممکنہ اثرات کو بھی اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ واشنگٹن خطے میں کسی بڑے بحران سے پہلے عالمی سفارتی توازن کو مدنظر رکھنا چاہتا ہے۔قبل ازیں صدر ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکیہیں کہ جنگ بندی لائف سپورٹ پر ہے، وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ایران کے نیوکلیئر ذرات صرف امریکا اور چین ہی بازیافت کرسکتیہیں کیونکہ صرف انہی دو ملکوں کے پاس اس بات کی صلاحیت موجود ہے، ٹرمپ ایران کی نئی تجاویز کو احمقانہ قرار دے کر مسترد کر چکے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں