حکومت کا بڑا فیصلہ،بجلی سبسڈی کا نیا نظام متعارف

اسلام آباد (بیوروچیف) حکومت نے آئی ایم ایف پروگرام کے تحت بجلی کی سبسڈی کا نظام مزید سخت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے، آئندہ رعایت صرف مستحق اور کم آمدن والے صارفین تک محدود رہے گی۔ وزارت خزانہ کے مطابق نئے طریقہ کار کے تحت عام صارفین کیلئے سبسڈی کے حصول کی شرائط تبدیل کی جا رہی ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ 200یونٹس تک بجلی استعمال کرنے والے صرف وہی صارفین رعایتی نرخوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ ہوں گے۔ حکومت کی جانب سے اس عمل کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے کی تیاری بھی کی جا رہی ہے۔وزارت خزانہ کے مطابق صارفین کو سبسڈی کیلئے کیو آر کوڈ کے ذریعے رجسٹریشن کرنا ہوگی، جس کے بعد درخواست گزاروں کا ریکارڈ نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی سے چیک کیا جائیگا تاکہ صرف مستحق افراد کو ہی رعایت فراہم کی جا سکے۔ذرائع کے مطابق یکم جنوری 2027 سے ملک بھر میں ٹارگٹڈ سبسڈی سسٹم نافذ کر دیا جائیگا۔ اس پالیسی کے تحت ایک سے زائد بجلی میٹر رکھنے والوں اور بڑے گھروں میں رہنے والے افراد کو سبسڈی نہیں ملے گی۔وزارت خزانہ نے واضح کیا ہے کہ بجلی، گیس اور آٹے پر دی جانے والی سرکاری رعایت صرف کم آمدن والے طبقے کا حق ہے، اس لیے مستقبل میں سبسڈی کی تقسیم مکمل طور پر آمدن اور مستحق ہونے کی بنیاد پر کی جائے گی۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں