وزیراعظم کا دورہ چین’ عملی تعاون کا نیا دور (اداریہ)

پاکستان اور چین کی دوستی گزشتہ 75برسوں سے ہر آزمائش پر پوری اتری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد’ احترام اور مشترکہ مفادات پر مبنی ہیں۔ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے حوالے سے چین کی غیر متزلزل حمایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ پاکستان چین کے ساتھ خصوصاً ڈیجیٹل معیشت’ ای کامرس’ انفارمیشن ٹیکنالوجی’ ٹیلی کمیونی کیشن’ زراعت’ قابل تجدید توانائی’ جدید صنعت کاری اور مہارتوں کی ترقی کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کو بہت اہمیت دیتا ہے، صوبائی سطح پر تعاون پاکستان چین تعلقات کا ایک اہم ستون ہے اور یہ صنعتی تعاون’ زرعی جدید کاری’ ٹیکنالوجی کے اشتراک اور برآمدات پر مبنی ترقی کے ذریعے سی پیک فیز2 کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف اپنے چار روزہ دورہ چین کے پہلے مرحلے میں ہانگژو پہنچے، شیائوشین ائیرپورٹ ہانگژو پہنچنے پر ان کا شاندار استقبال دونوں ملکوں کی عظیم دوستی کا مظہر ہے۔ مسٹر وانگ ہائو سے ملاقات میں ژجیانگ صوبے کی شاندار ترقیاتی منصوبوں کو سراہا اور صدر شی جن پنگ کی اس دور اندیش قیادت کی تعریف کی جو انہوں نے CPC ژجیانگ صوبائی کمیٹی کے پارٹی سیکرٹری کی حیثیت سے انجام دی۔ وزیراعظم نے صدر شی جن پنگ کی جانب سے پیش کردہ ”صاف پانی اور سرسبز پہاڑ انمول اثاثے ہیں” کے تصور بالخصوص کی تعریف کی۔ وزیراعظم نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ژجیانگ کی ترقی اور اعلیٰ معیار کی معاشی نمو کو کس طرح ایک دوسرے کے معاون انداز میں آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔ وزیراعظم نے تعاون پر مبنی دو اہم دستاویزات پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ پہلی دستاویز ژجیانگ صوبے اور صوبہ پنجاب کے درمیان سسٹر۔پروونس تعلقات کے قیام سے متعلق مفاہمتی یادداشت (MOU) تھی۔ اس مفاہمتی یادداشت کا مقصد تجارت’ سرمایہ کاری’ زراعت’ تعلیم’ ثقافت’ سیاحت اور عوامی روابط کے درمیان چین’ پاکستان کی مشترکہ ٹیکنالوجی ریسرچ سینٹر کے قیام سے متعلق دستاویز پر دستخط کی تقریب میں بھی شرکت کی۔ یہ مرکز تعلیمی تعاون۔ عملی تحقیق، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور پاکستان وچین کے اداروں کے درمیان روابط کو فروغ دے گا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین سفارتی تعلقات کے قیام کی 75 ویں سالگرہ منا رہے ہیں اور دونوں ممالک عوام دوست’ ترقی پر مبنی اور عملی تعاون کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں۔ نائب وزیراعظم وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار’ وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال’ وزیراطلاعات ونشریات عطاء اﷲ تارڑ’ وزیر آئی ٹی شزہ فاطمہ خواجہ اور معاون خصوصی طارق فاطمی’ وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔ وزیراعظم سی پیک فیز2 کے تحت پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے مابین تعاون کے فروغ کیلئے منعقدہ بزنس فورم میں شرکت بھی کرینگے اور معاہدوں ومفاہمتی یادداشتوں کے تبادلے کی تقریب میں شرکت کرینگے۔ علاوہ ازیں وزیراعظم کی معروف چینی کمپنیوں کے سی ای اوز سے ملاقاتیں بھی ہونگی۔ وزیراعظم چینی کمپنی علی بابا کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ بھی کرینگے اور تعاون مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کی تقریب میں شرکت کرینگے۔ بعدازاں وزیراعظم دورہ بیجنگ کیلئے روانہ ہونگے۔ بیجنگ میں وزیراعظم کی صدر شی چینگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقاتیں ہونگی۔ وزیراعظم پاک چین سفارتی تعلقات کی 75 ویں سالگرہ کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں شرکت بھی کرینگے۔ وزیراعظم معروف چینی کمپنیوں کے سربراہان سے ملاقاتیں بھی کرینگے۔ وزیراعظم چائنہ اکیڈمی آف ایگری کلچر سائنسز (CAAS) کا بھی دورہ کرینگے۔ وزیراعظم کا دورہ چین پاکستان چین تعلقات میں نئی جہتوں کا اضافہ بھی کرے گا اور دونوں ملکوں کی ترقی کیلئے سنگ میل بھی ثابت ہو گا۔ بالخصوص سی پیک فیز2 کے تحت پاکستان وچینی کمپنیوں کے ساتھ تعاون میں اضافہ شامل ہے۔ دریں اثناء وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف چین میں اپنے والہانہ استقبال پر چین کی اعلیٰ قیادت اور عوام کا بھی شکریہ ادا کیا اور کہا کہ وہ چین کے صوبے ژی جیانگ کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم ژی جیانگ صوبے کے ساتھ مختلف شعبوں میں عملی تعاون کو مضبوط بنانے کے خواہاں بھی ہیں کیونکہ دونوں ملکوں کی عوام کے دل ایک دوسرے کے ساتھ دھڑکتے ہیں۔ ڈیجیٹل معیشت’ ای کامرس’ انفارمیشن ٹیکنالوجی’ ٹیلی کمیونیکیشن’ زراعت قابل تجدید توانائی’ جدید صنعت سازی اور ہنرمندی کی ترقی بھی شامل ہے۔ یقینی طور پر اس سے دونوں ملکوں میں تعاون کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں