مصنوعی ذہانت سے ٹیکس فراڈ کی نشاندہی،نیا نظام متعارف

اسلام آباد (بیوروچیف) وفاقی حکومت نے ٹیکس نظام کو مزید موثر اور شفاف بنانے کیلئے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا فیصلہ کر لیا ہے، جس کے تحت ایف بی آر نے ڈیجیٹل نگرانی اور مصنوعی ذہانت پر مبنی ٹیکس سسٹم متعارف کرانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ اس حوالے سے تجاویز کو آئندہ فنانس بل 2026 میں شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق نئے اے آئی بیسڈ ٹیکس سسٹم کے ذریعے ٹیکس دہندگان کے ریٹرنز کا خودکار تجزیہ کیا جائے گا، جس سے غلط معلومات، انڈر رپورٹنگ اور مشتبہ مالی لین دین کی فوری نشاندہی ممکن ہو سکے گی۔ اس نظام کی مدد سے ٹیکس فراڈ، جعلی ڈکلیئریشنز اور انڈر انوائسنگ جیسے مسائل پر موثر قابو پانے میں مدد ملے گی۔ایف بی آر حکام کا کہنا ہے کہ اس جدید ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے نہ صرف ٹیکس چوری کی روک تھام ممکن ہوگی بلکہ محصولات میں بھی نمایاں اضافہ کیا جا سکے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیکس گیپ کم کرنے اور قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کیلئے مختلف تجاویز پر بھی غور جاری ہے۔ذرائع کے مطابق فنانس بل 2026-27 سے قبل ٹیکس انفورسمنٹ اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا جائے گا، جبکہ سمگلنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے خاتمے کیلئے بھی جدید نگرانی کے نظام کو مزید مثر بنانے کی حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھے گی

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں