لفظ قربانی قرب سے نکلا ہے یعنی ایک ایسا عمل ہے جس کے زریعے اللہ کی رضا اور قرب حاصل ہو”اللہ کی بارگاہ میں قربانیوں کا خون اور گوشت نہیں پہنچتابلکہ تمہارے دلوں کا تقویٰ(خلوص نیت) شرف قبولیت پاتا ہے (القرآن)۔ ہر قوم اپنے کچھ خاص تہوار کا جشن مانتی ہے اور یہ انسانی فطرت کا تقا ضا ہے۔ عید الفطر اور عید الضحٰی مسلمانوں کے تہوار ہیں۔ رسول اکرم ۖ جب ہجرت فرما کر مدینہ منورہ تشریف لائے ۔عید الفطر اور عید عید الضحٰی ان دونوں تہوار وں کا سلسلہ بھی اس وقت شروع ہوا۔ قربا نی بخشش و فیا ضی کا وہ انتہائی درجہ ایثار ہے کہ جہاں ایک شخص دوسروں کو آرام پہنچا نے کی خاطر سامنے عیش و آرام کو چھوڈ دیتا ہے دوسروں کی ضرو رت کو اپنی انتہائی ضرورت پر مقدم رکھنے کو عام طور پر ایثار قربانی کہتے ہیں ۔ ا لبتہ اسلامی شریعت میں قربانی کے معنی اور مفہوم یہ ہیں کہ وہ کام جس سے اللہ تعالی کی قربت و نزدیکی حاصل کی جائے ۔ذوالحجہ 12, 11, 10کی تاریخوں میں جانور کا ذبح کرنا قربانی ہوتا ہے اور جس دن یہ عظیم روحانی ،ایمانی اور مذہبی رسم ادا کی جاتی ہے اور مسلمان اجتماعی طورپر اللہ کے حضور شکرانے کے طور پر اپنا فرضہ ادا کرنے کے لئے دو رکعت نماز عید ادا کرنے کے لئے عید گاہ اکٹھے ہوتے ہیں ۔اس دن کو عید الضحٰی کہا جاتا ہے ۔عید الضحٰی جسے عید قربانی بھی کہا جاتاہے ہر سال اس عظیم قربانی کی یاد تاز ہ کرتی ہے جب حضرت ابراہیم علیہ السام نے اپنے لخت جگرحضرت اسماعیل علہ السلام کو مقام منٰی پر لٹا کر خدا کی رضا کے لئے قربان کرنے کے لئے گلے پر چھری چلائی عظیم قربانی اللہ تعالی کی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نو ازی گئی ۔ اور فدیے کے طور پر ایک دنبے کو قربان کر دیا گیا ۔ہر صاحب استطاعت مسلمان پر بھی قربانی واجب قرار دی گئی تاکہ سنت ابراہیمی قیامت تک قائم رہے ۔اس لئے امت محمد ۖ یہ سنت ہر سال عید الضحٰی کے دن سنت ابراہیمی ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ اور رسول اکرم ۖ کے احکام پر عمل کرتی ہے ۔احادیث مبارکہ میں قربانی کی فضیلت بیان کی گئی ہیں ۔حضرت عبداللہ بن عمرفرماتے ہیں کہ رسول اکرم ۖ نے مدینہ میں دس سال قیام فرمایا اور ہر سال قربانی کرتے رہے ۔(ترمذی)۔ رسول اکرم ۖ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس نے خوشی اور اخلاص کے ساتھ قربانی کی ،وہ اس کے لئے جہنم سے آڑ اور رکاوٹ بن جائے گی۔ بقر عید کے دن انسان کے تمام نیک اعمال میں سب سے زیادہ اور محبوب عمل قربانی کا ہے اور یہ قربانی قیامت کے دن اپنے سینگ ، بال اور گوشت کے ساتھ (صحیح سالم)آئے گی اور یقینا قربانی کا خون زمین پر گرنے سے پہلے للہ تعالیٰ کے ہاں مقبو لیت کا مقام حاصل کر لیتا ہے ، چنانچہ قربانی خوش دلی سے کیا کرو۔ (ترمذی وابن ماجہ)۔ رسول اکرم ۖ نے ارشاد اکرم ۖ نے ارشاد فرمایا کہ جسے قربانی کی وسعت اور طاقت ہو اور وہ قربانی نہ کرے ،وہ مسلمانوں کی عید گاہ میں حاضر نہ ہو۔(ترمذی و ابن ماجہ )۔ صحابہ کرام نے رسول ۖ سے عرض کیا ، یا رسول ۖ یہ قربانیاں کیا ہیں ۔۔۔۔۔۔؟آپ ۖ نے ارشاد فرمایا تمہارے باپ کی سنت ہے صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہۖ اس میں ہمارے لئے کیا نفع ہے ۔۔۔۔۔۔۔؟آپ ۖ نے فرمایا ، قربانی کے ہر بال پر ایک نیکی ملے گی ۔صحابہ نے پھر پو چھا (بھیڑ وغیرہ )بھیڑ کی اون میں کیا ملتا ہے ۔۔۔۔۔؟آپ ۖ نے ارشاد فرمایا ، ہر بال کے بدلے ایک نیکی ہے ۔(مسند احمد و ابن ماجہ )۔ احادیث نبوی ۖ میں قربانی کی جو دعا بیان کی گئی ہے اس کا ترجمہ کچھ یوں ہے ۔بے شک میں نے اپنا رخ اس اللہ کی طرف کر لیا جس نے زمین و آسمان کو پیدا کیا ہے حضرت ابراہیم نے طریقے میں ہر طرف سے یک سو ہو کر اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں ۔میری نماز و عبادت ، میری قربانی ، میرا جینا اور مرنا سب اللہ تعالیٰ کے لئے ہے ۔اس کا کوئی شریک نہیں اور میں اور اسی کا حکم مانے والوں میں سے ہوں ۔ اسلام مساوات و مواخات کا دین ہے چنانچہ اس نے ہر موقع پر غریبوں اور مسکینوں کا خیال رکھا ہے اس لئے عید قربانی پر غریبوں اور ناداروں، مصیبت زدہ افراد کا خصوصی خیال رکھنا بھی فرض ہے ۔ قربانی کے گوشت کے تین حصے کیے جائیں ۔پہلا حصہ اپنے لئے ۔دوسر احصہ اپنے دوست اور عزیز واقارب کے لئے جبکہ تیسرا فقرا ء اور مساکین کے لئے قربانی در حقیقت سنت ابراہیمی کی یاد گار اور اس عہد کی تجدید ہے کہ جینا مرنا عمل اللہ کے لئے ہے اللہ اور اس کے رسولۖ کے حکم کی تعمیل درحقیقت ایمان کا بنیادی مقصد ہے ۔قربانی در حقیقت جان نثاری اور تسلیم و رضا کا مظہر ہے اور مکمل اطاعت و جانثاری ہی در حقیقت عبادت کا لازمی تقاضا اور بندگی کی بنیاد ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رضا اور احکام کے مطابق زندگی گزارنے کی تو فیق عطا فرمائے ۔(آمین)




