کراچی ( بیو رو چیف )جدید دور میں ٹیکنالوجی، سمارٹ فونز، کمپیوٹرز اور سوشل میڈیا نے زندگی کو جہاں سہل بنایا ہے وہیں مسلسل سکرین کے استعمال نے ایک نئے ذہنی و جسمانی مسئلے کو بھی جنم دیا ہے جسے ماہرین ڈیجیٹل تھکاوٹ یا ڈیجیٹل فٹیگ قرار دیتے ہیں۔خاص طور پر نوجوان نسل جو تعلیم، ملازمت، تفریح اور سماجی رابطوں کے لیے طویل وقت تک موبائل یا کمپیوٹرسکرینوں سے جڑی رہتی ہے اس مسئلے سے زیادہ متاثر ہو رہی ہے۔ماہر ین نفسیات کے مطابق مسلسل سکرین پر نظریں جمائے رکھنے سے نہ صرف آنکھوں پر دباؤ بڑھتا ہے بلکہ ذہنی تھکن، توجہ کی کمی، چڑچڑاپن، نیند کی خرابی اور جذباتی دباؤ بھی پیدا ہوتا ہے۔ آنکھوں میں خشکی، جلن، سر درد، گردن اور کندھوں میں درد، دھندلی بینائی اور جسمانی تھکن ڈیجیٹل فٹیگ کی عام علامات میں شامل ہیں۔ماہر نفسیات کے مطابق مسئلہ صرف جسمانی تھکن تک محدود نہیں رہتا بلکہ اگر اسے مسلسل نظر انداز کیا جائے تو یہ بے چینی، اضطراب، ڈپریشن اور دیگر ذہنی امراض کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ماہر کے مطابق لوگ اکثر ان علامات کو معمولی سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں حالانکہ مسلسل ذہنی دباؤ انسان کی مجموعی صحت اور کارکردگی کو شدید متاثر کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسکرین کے استعمال کے دوران ایک وقت میں ایک ہی کام پر توجہ دی جائے اور غیر ضروری مواد دیکھنے سے گریز کیا جائے۔ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں کہ روزمرہ معمول میں ڈیجیٹل سرگرمیوں کے لیے مخصوص وقت مقرر کیا جائے، سکرین سے وقفے لیے جائیں، ورزش، واک، کتاب بینی یا اہل خانہ کے ساتھ وقت گزارنے جیسی سرگرمیوں کو شامل کیا جائے۔




