7مبینہ پولیس مقابلے،ڈرگ ڈیلر سمیت3ڈاکو ہلاک،4زخمی حالت میں گرفتار

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سٹی پولیس آفیسر تنویر حسین کی ہدایت پر 24گھنٹوں کے دوران 7مبینہ پولیس مقابلوں میں ڈرگ ڈیلر سمیت 3ریکارڈ یافتہ ڈاکو ہلاک’ 4زخمی حالت میں گرفتار جبکہ خاتون سمیت 18ملزمان رات کی تاریکی میں فرار ہو گئے، پولیس نے مرنے والے ڈاکوئوں کی نعشوں کو شعبہ مارچری اور زخمی ڈاکوئوں کو طبی امداد کی غرض سے ہسپتال منتقل کر دیا اور فرار ہونیوالے ڈاکوئوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس ایچ او تھانہ جھنگ بازار محمد افضل نے اپنی ٹیم کے ہمراہ منشیات فروشوں کی گرفتاری کیلئے ماہیے شاہ قبرستان کے قریب چھاپہ مارا تو منشیات فروشوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ بھی کی جبکہ ایک مرد اور عورت موٹرسائیکل پر فرار ہو گئے۔ تاہم فائرنگ کا تبادلہ رُکنے پر پولیس نے سرچ آپریشن کیا تو ایک ملزم زخمی حالت میں پڑا تھا جس نے اپنا نام یٰسین ولد کمیر سکنہ 216 ضلع جھنگ بتایا جو کہ منشیات کے مقدمات میں پولیس کو مطلوب تھا اور وہ بڑے پیمانے پر آئس ڈیلر تھا، مضروب کو ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا۔ جبکہ تھانہ چک جھمرہ کی چوکی برنالہ کے انچارج اے ایس آئی آصف حیات نے اپنی ٹیم کے ہمراہ فلاہی موڑ پر ناکہ پر موٹرسائیکل پر سوار چار مشکوک افراد کو رُکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔ اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ چک جھمرہ انسپکٹر رضوان شوکت بھی موقع پر پہنچ گئے، فائرنگ کا تبادلہ رُکنے پر سرچ آپریشن کیا تو ایک ملزم زخمی حالت میں پڑا تھا جس کی شناخت رحمان شہزاد کے نام سے ہوئی جسے ہسپتال لایا جا رہا تھا کہ وہ راستے میں دم توڑ گیا۔ مذکورہ ڈاکو نے چند روز قبل حساس ادارے کے ملازم سلمان رضا کو مزاحمت پر گولی مار کر بری طرح زخمی کر دیا تھا۔ جبکہ اسکے 3ساتھی رات کی تاریکی میں فرار ہو گئے۔ تیسرا مبینہ مقابلہ سٹی سمندری کے ایس ایچ او اقبال فرید نے اپنی ٹیم کے ہمراہ گوجرہ روڈ سیم نہر پر ناکہ کے دوران موٹرسائیکل پر سوار پانچ مشکوک افراد کو رُکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے بھی پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی، پولیس نے جوابی فائرنگ بھی کی۔ فائرنگ کا سلسلہ رُکنے پر پولیس نے سرچ آپریشن کیا تو ایک ملزم زخمی حالت میں پڑا تھا، جسکی شناخت علی رضا ولد افضل سکنہ بولے دی جھگی فیصل آباد کے نام سے ہوئی جو کہ ریکارڈ یافتہ پولیس کی 33 سے زائد وارداتوں میں مطلوب تھا، مضروب کو ہسپتال پہنچانے کی کوشش کی لیکن وہ راستے میں دم توڑ گیا۔ جبکہ اس کے چار ساتھی موقع سے فرار ہو گئے۔ تھانہ ملت ٹائون کے ایس ایچ او علی اکبر نے اپنے عملہ کے ہمراہ دھنولہ روڈ پر ناکہ لگا رکھا تھا اور موٹرسائیکل سوار تین مشکوک افراد کو رُکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی، پولیس نے جوابی فائرنگ بھی کی۔ تاہم فائرنگ کا تبادلہ رُکنے پر سرچ آپریشن کے دوران ایک ملزم زخمی حالت میں پڑا تھا جسکی شناخت فلک شیر ولد طارق محمود کے نام سے ہوئی جوکہ ریکارڈ یافتہ اور مویشی منڈی آنے والے شہریوں کو لوٹنے سمیت دیگر وارداتوں میں مطلوب تھا جبکہ اس کے دو ساتھی رات کی تاریکی میں فرار ہو گئے۔ پانچواں پولیس مقابلہ ستیانہ کے علاقہ جگت پورہ کے قریب ہوا۔ جہاں پر ایس ایچ او تھانہ ستیانہ آصف علی نے اپنے عملہ کے ہمراہ ناکہ بندی کے دوران مشکوک موٹرسائیکل سواروں کو رُکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی۔ پولیس نے جوابی فائرنگ بھی کی۔ فائرنگ رُکنے پر پولیس نے سرچ آپریشن کیا تو ایک ملزم زخمی حالت میں پڑا تھا۔ جسکی شناخت عاشق علی کے نام سے ہوئی جو کہ ریکارڈ یافتہ اور پولیس کو 25 سے زائد بھتہ خوری’ ڈکیتی وارداتوں میں پولیس کو مطلوب تھا جبکہ اس کے ساتھی رات کی تاریکی میں فرار ہو گئے۔ چھٹا پولیس مقابلہ تھانہ مریدوالہ کے علاقہ پل موٹروے گوجرہ روڈ پر ہوا جہاں پر انچارج چوکی ظفر چوک اے ایس آئی احمد سلیم اپنی ٹیم کے ہمراہ مشکوک موٹرسائیکل سواروں کو رُکنے کا اشارہ کیا تو انہوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی، مقابلہ کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تھانہ مریدوالہ قمر الزمان بھی پولیس کی نفری کے ہمراہ موقع پر پہنچ گئے، فائرنگ کا تبادلہ رُکنے پر پولیس نے سرچ آپریشن کیا تو ایک ملزم زخمی حالت میں پڑا تھا جس نے اپنا نام محمد خان ولد محمد رمضان سکنہ 53 ٹکرا بتایا جو کہ ریکارڈ یافتہ اور پولیس کو متعدد وارداتوں میں مطلوب تھا جبکہ اس کے ساتھی رات کی تاریکی میں فرار ہو گئے۔ علاوہ ازیں ساتواں پولیس مقابلہ تھانہ صدر تاندلیانوالہ کے علاقہ 411 گ ب کے قریب ہوا جہاں پر ایس ایچ او تھانہ صدر تاندلیانوالہ انسپکٹر محمد سرفراز اپنے عملہ کے ہمراہ ناکہ بندی پر موجود تھے کہ ایک موٹرسائیکل پر تین مشکوک افراد کو چیکنگ کیلئے روکا تو انہوں نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کر دی اور قریب فصل مکئی میں چھپ کر فائرنگ کرتے رہے۔ پولیس نے جوابی فائرنگ بھی کی، فائرنگ کا سلسلہ رُکنے پر پولیس نے سرچ آپریشن کیا تو ایک ملزم زخمی حالت میں پڑا تھا، جس کی شناخت اعجاز عرف ججی ولد سرفراز سکنہ 275 گ ب کے نام سے ہوئی جوکہ ریکارڈ یافتہ اور پولیس کو 20 سے زائد وارداتوں میں مطلوب تھا۔ مضروب کو طبی امداد کیلئے ہسپتال منتقل کر دیا اوراس کے فرار ہونیوالے ساتھیوں کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں