عید الاضحی کے قریب آتے ہی مویشی منڈیوں میں جانوروں کی خریدوفروخت عروج پر پہنچ گئی

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) عیدالاضحی کے قریب آتے ہی مویشی منڈیوں میں قربانی کے جانوروں کی خرید وفروخت عروج پر پہنچ گئی، چارہ فروشوں نے بھی ریٹ کئی گنا بڑھا دیئے جبکہ چھریوں’ بگدے تیز کرنے والے بھی من مرضی کے ریٹ وصول کرنے لگے۔ تفصیل کے مطابق مہنگائی میں ہوشربا اضافہ کی وجہ سے سفید پوش طبقہ شدید پریشان ہے۔ مویشی منڈیوں میں بیوپاریوں نے قربانی کے جانوروں کے منہ مانگے دام وصول کر رہے ہیں اور مویشی منڈیوں میں خریداری اور بیوپاری بھائو تائو میں مصروف نظر آتے ہیں جبکہ قربانی کے جانوروں کی خریداری کیلئے مویشی منڈیوں میں رش لگ گیا۔ مویشی منڈیوں میں ڈیڑھ لاکھ سے اڑھائی لاکھ کے جانوروں کی ڈیمانڈ زیادہ ہے جبکہ زیادہ وزنی جانوروں کا خریدار بہت کم نظر آتا ہے جبکہ بچے جوان بھاری جانوروں کو دیکھنے کیلئے آتے ہیں۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک تو مہنگائی کی وجہ سے قوت خرید کم ہو کر رہ گئی ہے۔ دوسری طرف ضلعی حکومت کی طرف سے خریدار بھی بڑا جانور ایک ہزار اور چھوٹا بکرا چھترا 200 روپے ٹیکس لگا دیا ہے جوکہ پہلے کبھی نہیں تھا۔ صرف بیوپاری جو جانور لیکر منڈی آتے تھے ان سے فی جانور کے حساب سے فیس وصول کی جاتی تھی اس کے ساتھ ساتھ جو شہری قربانی کے جانور خرید کر گھر لاتے ہیں تو چارہ فروشوں نے بھی چارہ کے ریٹ کئی گنا بڑھا دیئے ہیں اور لوٹ مار کی انتہا کر رکھی ہے۔ عام جڑی بوٹی جنتر 30 روپے سے 40 روپے فی کلو فروخت کی جا رہی ہے اور عید قربانی کے موقع پر چھریاں’ بگدے تیز کرنے والے بھی من مرضی کے ریٹ وصول کر رہے ہیں، کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ پیرافورس صرف روٹی کے ریٹ دیکھتی ہے اور باقی اشیاء پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ شہری حلقوں نے کمشنر فیصل آباد مسرت جبیں’ ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر اور ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ مصنوعی مہنگائی کرنے والوں کے خلاف موثر کارروائی کی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں