اسلام آباد (بیوروچیف) مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے صدر کاشف چوہدری نے کہا ہے کہ آئندہ وفاقی بجٹ میں ریٹیلرز کے لیے آسان، سادہ اور قابلِ عمل ٹیکس نظام متعارف کرایا جائے تاکہ لاکھوں تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جا سکے جبکہ ٹیئر ون کے تاجروں ، رئیل اسٹیٹ جیولرز موبائل کمپیوٹرز آئی ٹی اشیائے خوردونوش میڈیکل سمیت صنعتوں کیلئے ٹیکسز کی شرح کم اور منصفانہ اور کاروباروں کیلئے اور کاروباری طبقے کو ایف بی آر کے پیچیدہ نظام، خوف اور ہراسانی سے نجات مل سکے ان خیالات کا اظہار انہوں نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا اس موقع پر خواجہ شاھد رزاق سکا سرپرست اعلی ،شیخ حبیب چیرمین کراچی سندھ تاجر اتحاد ،شرجیل میر صدر صوبہ پنجاب ،شرافت علی مبارک صدر صوبہ خیبر پختونخواہ ،جاوید میمن قائمقام صدر صوبہ سندھ ،ظاھر شاہ خان جنرل سیکرٹری صوبہ خیبر پختونخواہ ،شیخ سعید جنرل سیکرٹری فیصل آباد ودیگر بھی ہمراہ تھے ۔کاشف چوہدری نے کہا کہ ریٹیلرز پہلے ہی مہنگی ترین بجلی کے بلوں پر 10 سے 15 فیصد تک انکم ٹیکس ادا کرتے ہیں، مگر ایف بی آر کے 147 صفحات پر مشتمل پیچیدہ ریٹرن فارم، چھاپوں اور بلیک میلنگ کے خوف کے باعث تاجر ریٹرن فائل نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو فوری طور پر اردو اور دیگر مقامی زبانوں میں ایک صفحے پر مشتمل مختصر اور آسان ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کرانا چاہیے۔ا نہوں نے مطالبہ کیا کہ سالانہ 20 کروڑ روپے تک ٹرن اوور رکھنے والے تاجروں کے لیے آسان اور سادہ ٹیکس اسکیم لائی جائے، جس میں نئے اور پرانے فائلرز دونوں کو شامل ہونے کا اختیار دیا جائے۔ اس اسکیم کے تحت ریٹرن جمع کرانے والے تاجروں کو فرض شناس ٹیکس گزار کی خصوصی شیلڈ یا پلیٹ دی جائے اور ایسے تاجروں کو ایف بی آر کی ہراسانی، چھاپوں اور غیر ضروری کارروائیوں سے مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔کاشف چوہدری نے کہا کہ آسان ٹیکس اسکیم اختیار کرنے والے تاجروں پر پوائنٹ آف سیل، ڈیجیٹل انوائسنگ اور ودہولڈنگ ٹیکس کاٹنے کی ذمہ داری کا اطلاق نہ کیا جائے جبکہ 1.5 فیصد کم از کم ٹرن اوور ٹیکس بھی ختم کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس اسکیم کے تحت آنے والے تاجروں کا آڈٹ نہ ہو اور ظاہر کردہ ٹرن اوور پر صرف 0.25 فیصد سے 0.50 فیصد تک ٹیکس مقرر کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بجلی، فون اور دیگر مد میں پہلے سے کٹے ہوئے ودہولڈنگ ٹیکس کو ایڈجسٹ کرنے کی اجازت دی جائے جبکہ کم از کم سالانہ 25 ہزار روپے ٹیکس پر بھی اتفاق کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس اسکیم میں شامل تاجروں سے گاڑیوں اور جائیداد کے بارے میں بلاوجہ پوچھ گچھ نہ کی جائے اور بینک اکانٹس میں غیر معمولی ٹرانزیکشنز پر کارروائی صرف تاجر نمائندوں اور ٹیکس افسران پر مشتمل مشترکہ کمیٹی کی سفارش پر ہو۔کاشف چوہدری نے زور دیا کہ آئندہ برسوں میں بھی اس آسان ٹیکس اسکیم کو جاری رکھا جائے اور تاجروں کو مستقل بنیادوں پر آڈٹ سے استثنی دیا جائے۔ انہوں نے تجویز دی کہ نارمل ٹیکس نظام یا آسان اسکیم کے تحت ریٹرن جمع نہ کرانے مرحلہ وار جرمانوں کے بعد تاجر نمائندوں اور متعلقہ اداروں کی سفارش پر دکان سیل کرنے کا نظام متعارف کرایا جائے۔انہوں نے ایف بی آر کو اس آسان ٹیکس اسکیم کو کامیاب بنانے کا ہدف دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بعض عناصر اپنے اختیارات اور مفادات ختم ہونے کے خوف سے اس اسکیم کی راہ میں رکاوٹ ڈال سکتے ہیں۔ٹیئر ون ریٹیلرز کے حوالے سے کاشف چوہدری نے کہا کہ موجودہ تعریف اور شرائط میں تبدیلی کی جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈیجیٹل ادائیگیاں قبول کرنے والے تاجروں پر پوائنٹ آف سیل لازمی قرار نہ دیا جائے، سالانہ 12 لاکھ روپے بجلی بل کی حد بڑھا کر 20 لاکھ کی جائے اور ائرکنڈیشنڈ مالز میں صرف برانڈز اور چین اسٹورز پر پوائنٹ آف سیل نافذ کیا جائے۔رئیل اسٹیٹ سیکٹر کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ سیکشن 236C اور 236K کے تحت عائد ٹیکسز کو ایک فیصد تک کم کیا جائے جبکہ سیکشن 7E کو مکمل طور پر ختم کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر کی جائیداد ویلیو کم از کم 40 فیصد کم کی جائے اور اوورسیز پاکستانیوں کو جائیداد خریدنے پر خصوصی ٹیکس ریلیف دیا جائے تاکہ رئیل اسٹیٹ اور اس سے وابستہ 80 سے زائد صنعتوں کو دوبارہ فعال بنایا جا سکے۔جیولرز، موبائل فون، آئی ٹی، گاڑیوں، میڈیکل، زرعی اجناس اور دیگر شعبوں کے لیے الگ الگ کیٹیگریز اور سہولیات متعارف کرانے کی تجویز دیتے ہوئے کاشف چوہدری نے کہا کہ موبائل فونز پر پی ٹی اے ٹیکس کم کیا جائے اور سیلز ٹیکس و فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں کمی کر کے کاروباری آسانیاں پیدا کی جائیں۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ شرح سود، بجلی اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں فوری کمی کی جائے، سپر ٹیکس ختم کیا جائے اور سیلز ٹیکس کو سنگل ڈیجٹ پر لایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ خام مال کی درآمد پر ڈیوٹیز کم کر کے صنعتوں کو سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ ملکی برآمدات میں اضافہ اور درآمدات میں کمی ممکن ہو سکے۔کاشف چوہدری نے ایف بی آر کے لامحدود اختیارات، گرفتاریوں، جرمانوں اور مارکیٹوں میں چھاپوں کے کلچر کو محدود کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ تاجروں کو خوفزدہ کرنے کے بجائے اعتماد دیا جائے۔انہوں نے حکومتی اخراجات میں کمی، وی آئی پی کلچر، پروٹوکول، غیر ملکی دوروں اور پرتعیش اخراجات کے خاتمے کا مطالبہ کیا جبکہ این ایف سی ایوارڈ پر نظر ثانی اور ترقیاتی اخراجات میں کمی کی تجویز بھی پیش کی۔لاک ڈائون کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ عید کے بعد کاروباری سرگرمیوں کی مکمل بحالی یقینی بنائی جائے اور گرمیوں میں مارکیٹوں کے اوقات محدود نہ کیے جائیں کیونکہ عوام شام کے اوقات میں خریداری کے لیے نکلتے ہیں۔پریس کانفرنس سے خواجہ شاہد رزاق سکا، شیخ حبیب، شرجیل میر، شرافت علی مبارک، جاوید میمن، ظاہر شاہ خان اور شیخ سعید نے بھی خطاب کیا۔خواجہ شاہد رزاق سکا نے کہا کہ مرکزی تنظیم تاجران پاکستان نے ہمیشہ تاجروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے مثر کردار ادا کیا ہے جبکہ شیخ حبیب نے کہا کہ سمارٹ لاک ڈائون کا خاتمہ تاجروں کی یکجہتی اور اتحاد کا عملی ثبوت ہے۔ شرجیل میر نے حکومت سے تاجروں کو فوری ریلیف دینے کا مطالبہ کیا جبکہ شرافت علی مبارک نے ٹیکس ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے خصوصی رعایتوں کی ضرورت پر زور دیا۔جاوید میمن نے ایف بی آر سمیت دیگر اداروں کی چیرہ دستیوں کو روکنے کا مطالبہ کیا جبکہ ظاہر شاہ خان نے تاجروں کے لیے اردو میں آسان اور سادہ ٹیکس ریٹرن فارم متعارف کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔ شیخ سعید نے کہا کہ تاجر برادری نے ہمیشہ اتحاد و یکجہتی کا عملی ثبوت دیا ہے اور آئندہ بھی تاجروں کے حقوق کے تحفظ کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔




