خلع اور گھریلو تنازعات سے متعلق سپریم کورٹ کااہم فیصلہ

اسلام آباد (بیوروچیف) سپریم کورٹ نے خلع اور گھریلو تنازعات سے متعلق اہم فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع نہیں ہوسکتا۔سپریم کورٹ کے مطابق بیوی کی واضح اور غیر مبہم رضامندی کے بغیر خلع دینا قانونی طور پر درست نہیں،اگر بیوی نے ظلم کی بنیاد پر کیس دائر کیا ہو تو اسے خلع میں تبدیل کرنا مالی حقوق کو متاثر کر سکتا ہے،عدالت بیوی کو اختیار دے کہ وہ ظلم کا دعوی جاری رکھے یا خلع قبول کرے،عدالت زبردستی ختم رشتہ بحال نہیں کرا سکتی۔جسٹس شاہد بلال حسن نے 12 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیاجس کے مطابق ظلم ثابت نہ ہو شادی عملی طور پر ختم ہو چکی ہو تو بیوی کو انتخاب کا حق دینا ضروری ہے،عدالت زبردستی ختم رشتہ بحال نہیں کرا سکتی،گھریلو تشدد کی تعریف وسیع ہے جس میں جسمانی، ذہنی اذیت، تذلیل، دباو اور محرومی بھی شامل ہیں،ذہنی ظلم میں جذباتی اذیت، نظرانداز کرنا اور شدید ذہنی تکلیف دینا بھی شامل ہیں۔فیصلے کے مطابق فیملی مقدمات میں ثبوت کا معیار غالب امکان جبکہ فوجداری مقدمات میں شک سے بالاتر ہوگا،عدالتوں کو گھریلو معاملات میں ناممکن ثبوت جیسے عینی شاہد یا ایف آئی آر کا تقاضا نہیں کرنا چاہیے،گھریلو جھگڑوں میں حقائق، رویہ اور حالات کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔فیصلے کے مطابق موجودہ کیس میں شادی 19 ستمبر 2016 کو ہوئی جبکہ 8 اکتوبر 2016 کو علیحدگی کا مقدمہ دائر کیا گیا،قلیل مدت میں بھی ظلم ہو سکتا ہے ہر کیس اپنے حقائق پر منحصر ہوگا،عدالت کے مطابق بیوی ظلم ثابت کرنے میں ناکام رہی،نچلی عدالتوں کے فیصلے برقرار رکھے جاتے ہیں،تاہم شادی ابتدا میں ہی ختم ہو چکی تھی اور بیوی مسلسل علیحدگی پر قائم رہی۔ سپریم کورٹ نے خلع کا فیصلہ جزوی طور پر کالعدم قرار دیتے ہوئیکیس صرف خلع کے طریقہ کار اور مالی حقوق کے تعین تک واپس فیملی کورٹ کو بھیج دیا ،سپریم کورٹ کے مطابق فیملی کورٹ بیوی کا حتمی بیان ریکارڈ کر کے اس کی مرضی معلوم کرے گی،بیوی اگر خلع کا انتخاب کرے تو قانونی شرائط کے مطابق فیصلہ ہوگا، اگر بیوی ظلم کے دعوی پر قائم رہے تو اسی بنیاد پر کیس کا فیصلہ ہوگا۔سپریم کورٹ نے فیملی کورٹ کو 30 دن میں کیس نمٹانے کی ہدایت کردی، سوات کی رہائشی سیلاب اختر نے شوہر قوت خان کیخلاف دعوی دائر کیا تھا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں