پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کو مزید بہتر بنایا جائیگا

لاہور(بیورو چیف) یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے شعبہ تعلیم کے زیر اہتمام پاکستان کی تعلیمی پالیسی، زبان اور طلبہ کے تعلیمی نتائج کے حوالے سے گول میز پالیسی مکالمے کا انعقاد کیا گیا جس میں شرکاء نے پاکستان میں تعلیمی معیار بہتر بنانے اور پالیسیوں کے موثر نفاذ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا ۔مکالمے کی قیادت سینئر ڈیپارٹمنٹل لیکچرر ڈاکٹر عالیہ خالد اور ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر این چائلڈز نے کی۔ تقریب میں حکومتی نمائندوں، برٹش کونسل،فارن کامن ویلتھ اینڈ ڈویلپمنٹ آفس ، پاکستانی جامعات کے ماہرین تعلیم اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے اساتذہ نے شرکت کی۔شعبہ تعلیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر لیون فائن اسٹائن نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ تعلیمی پالیسی اور تحقیق کے درمیان بہتر رابطہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عالیہ خالد نے کہا کہ تحقیق کے ذریعے عملی پالیسی سازی میں مثبت تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔پاکستان کی فرانس میں سفیر اور یونیسکو میں مستقل مندوب ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستان کے تعلیمی مسائل کو منظم انداز میں دنیا کے سامنے پیش کرنا ضروری ہے تاکہ موثر اصلاحات کی جا سکیں۔پہلے سیشن میں دوربین پاکستان اور آکسفورڈ یونیورسٹی نے زبان سے متعلق تعلیمی پالیسی پر تحقیق پیش کی جبکہ دوسرے سیشن میں انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشن ریسرچ پشاور یونیورسٹی اور آکسفورڈ یونیورسٹی نے طلبہ کے تعلیمی نتائج سے متعلق پالیسی تبدیلیوں پر گفتگو کی۔ مقررین نے زور دیا کہ موثر تعلیمی پالیسی کے لیے تحقیق اور زمینی حقائق کو ساتھ لے کر چلنا ضروری ہے۔تقریب کے اختتام پر شرکا نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بین الاقوامی تعاون اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے پاکستان میں تعلیمی اصلاحات کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں