فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سربراہ پاکستان سنی تحریک مولانا محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا ہے کہ ابراہیمی معاہدہ کسی صورت عالمِ اسلام، بالخصوص عرب ریاستوں کے لیے قابلِ قبول اور قابلِ عمل نہیں ہو سکتا۔ایران کے ساتھ ممکنہ امریکی معاہدے سے قبل عرب ممالک پر اسرا ئیل کو تسلیم کرنے کے لیے دبا ڈالنا امریکی سفارتی بدحواسی اور خطے کے امن کے لیے نقصان دہ عمل ہے،طاقتور ریاستوں کی جانب سے دنیا کو مسلسل جنگوں اور تنازعات کی طرف دھکیلنا انتہائی تشویشناک امر ہے۔ اقوام متحدہ عالمی سطح پر امن کے قیام، جنگوں کے خاتمے اور بدامنی کم کرنے میں موثر کردار ادا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہی ہے۔ مسئلہ کشمیر اور فلسطین کا دہائیوں سے حل نہ ہونا اقوام متحدہ کی ناکامی اور نااہلی کا واضح ثبوت ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی میلاد کمیٹی کے سرپرست اعلی الحاج منیر احمد نورانی سے ان کی رہائش گاہ پر وفد کے ہمراہ ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر پاکستان سنی تحریک کے صوبائی صدر شمالی پنجاب محمد زاہد حبیب قادری، علامہ سید شہزاد شاہ، عبدالوحید قادری کمبوہ، عبداللطیف رضوی اور دیگر رہنما بھی موجود تھے۔مولانا محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ اسرائیلی جارحیت نے عالمی امن کو شدید نقصان پہنچایا ہے جبکہ بعض عرب ریاستوں کا امریکہ کے ذریعے اسرائیل کو تسلیم کرنا اور اس کے ساتھ سفارتی و معاشی تعلقات استوار کرنا افسوسناک اور قابلِ مذمت اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاکھوں فلسطینی مسلمانوں کے قتل اور جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا کرنے والے اسرائیلی وزیراعظم کو امریکی سرپرستی حاصل ہونا عالمی انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل پوری دنیا کے لیے عدم استحکام اور معاشی بے ضابطگیوں کا سبب بن رہے ہیں اور اپنے مفادات کے حصول کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کر رہے ہیں۔ ایران کے خلاف بار بار دھمکیوں اور فوجی کارروائیوں کی باتیں عالمی امن کے لیے خطرناک ہیں اور ایسی پالیسیاں خطے کو مزید کشیدگی کی طرف دھکیل سکتی ہیں۔سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ امریکہ کو یہ حقیقت تسلیم کر لینی چاہیے کہ وہ اب دنیا کی واحد سپر پاور نہیں رہا۔ عالمی سیاست میں چین اور روس کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بدلتے ہوئے عالمی حالات میں خطے کی سالمیت، خودمختاری اور معاشی استحکام کے لیے پاکستان، چین، روس، ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک پر مشتمل ایک مضبوط علاقائی تعاون کا نظام تشکیل دیا جانا چاہیے، جس میں ایران کو بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امت مسلمہ کو باہمی اتحاد، سیاسی بصیرت اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے فلسطین، کشمیر اور دیگر مسلم مسائل کے حل کے لیے موثر کردار ادا کرنا ہوگا۔ پاکستان سنی تحریک ہمیشہ مظلوم اقوام کے حقِ خودارادیت، عالمی امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور مسلم امہ کے اتحاد کی حمایت کرتی ہے۔




