فیصل آباد(سٹاف رپورٹر) سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے پٹرولیم رانا زاہد توصیف نے پاکستان کی ابتر معاشی صورتحال، بڑھتی مہنگائی، بے روزگاری، غربت اور تیزی سے بند ہوتی انڈسٹری کی کیفیت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ وقت میں انڈسٹری مالکان اضطراب کا شکار، کسان مقروض اور سرمایہ کار ملک چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں۔ نوجوان روزگار کی تلاش میں بیرونی ممالک رکا رخ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئی پی پیز پراجیکٹس کے ذریعہ قوم کے ساتھ ظلم کیا گیا اور کرپشن کے نئے راستے کھلے۔ 40 ہزار میگا واٹس کے پلانٹس کو عوام کے گلے کا طوق بنا کر انہیں مشکلات سے دوچار کیا گیا۔ حالانکہ اس کی قطعی ضرورت نہ تھی۔ اس کا ذمہ دار کون ہے؟ باقاعدہ تحقیقات ہونی چاہیے۔ اور حقائق عوام کے سامنے لانے چاہئیں۔کیونکہ عوام بند پلانٹس کابوجھ بھی برداشت کر رہی ہے۔ لہذا قوم کے ساتھ تماشہ اب بند ہونا چاہیے۔ اور ملک کو حقیقی معنوں میں معاشی استحکام کی طرف لے جانے، سستی بجلی کی پیداوار پٹرول بچت کے لیے الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے فروغ سمیت حکمرانوں کو اپنے شاہانہ اخراجات ختم کر کے آئی ایم ایف سے ہمیشہ کے لیے جان چھڑانا ہوگی۔ رانا زاہد توصیف نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے دنیا بھر میں جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جا رہا ہے۔ لہذا ملک میں ہواں کے ذریعہ بجلی تیار کرنے اور سولر انرجی کو فروغ دینے کے لیے ترجیحی بنیاد پر اقدامات ضروری ہیں۔




