نیویارک (مانیٹرنگ ڈیسک) طالبان رجیم میں افغان خواتین کی عصمت دری کے واقعات سے نام نہاد حکومت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوگیا۔افغان طالبان رجیم کے جنسی مظالم اور انسانیت سوز سلوک دنیا کے سامنے بے نقاب ہونے لگے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رہنما اور جنگجوئوں نے خواتین کے جنسی تشدد کا ارتکاب کیا ہے۔افغان میڈیا افغان انٹرنیشنل کیمطابق یوناما نے سال 2025 میں 21 ایسے کیسز کو دستاویزی شکل دی جن میں 15 خواتین اور 6 لڑکیاں شامل تھیں۔ رپورٹ کے مطابق طالبان حکام اور جنگجوئوں نے افغان خواتین کو انفرادی اوراجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا۔سیوناما رپورٹ کے مطابق طالبان حکام اپنی اعلان کردہ پابندی کے باوجود خود بھی خواتین کی جبری شادیوں میں ملوث ہیں۔ طالبان حکام نے احتجاجی خواتین کو حراست میں لے کر تشدد،بدسلوکی اور جنسی استحصال کا نشانہ بنایا۔دہ کی طرف سے ان سنگین الزامات کے بعد معاملے کی آزاد، شفاف اورغیر جانبدارانہ تحقیقات کی جانی چاہئیں۔ماہرین کے مطابق طالبان کا نام نہاد اسلامی نظام ایک ڈھونگ ہے اور یہ ٹولہ طاقت کے وحشیانہ استعمال سے اپنا اقتدار قائم رکھے ہوئے ہے۔ افغان طالبان کے ہاتھوں خواتین کے جنسی استحصال سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ٹولہ اسلام کے نام پر اپنے عوام کو دھوکا دے رہا ہے۔




