پاکستان اور یورپی یونین کے 8 ویں سٹریٹجک ڈائیلاگ کا انعقاد اسلام آباد میں ہوا۔ نائب وزیراعظم’ وزیرخارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نمائندہ کایاکالاس نے مشترکہ کانفرنس کی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کایاکالاس نے کہا کہ افغانستان سے دہشت گردی کے خلاف پاکستان کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔ اسلام آباد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کے ساتھ مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ نے کہا کہ پاکستان کو بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے دفاع اور شہریوں کے تحفظ کا مکمل حق حاصل ہے تاہم علاقائی تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات ہی بہترین راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین نے مسلسل دونوں ممالک پر تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی میں کمی لانے پر بھی زور دیا، کیونکہ موجودہ حالات میں فضائی حملوں کے بجائے مذاکرات ہی مسائل کا مؤثر حل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سٹریٹجک مذاکرات کے دوران مختلف اہم علاقائی اور عالمی امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے اسلام آباد میں پرتپاک استقبال پر نائب وزیراعظم’ وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور پاکستان کا خصوصی شکریہ ادا بھی کیا۔ یہ بات یقینی ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعاون مزید فروغ پائے گا۔ انہوں نے امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں پاکستان کے کردار کو بھی سراہا اور کہا کہ اسلام آباد کی ثالثی کی کوششیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ امریکا اور ایران تنازع نے دنیا کو توانائی کے سنگین بحران سے دوچار کیا۔ جس کے باعث پائیدار جنگ بندی اور سفارتی عمل کے تسلسل کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔ 2026ء کے لیے بنیادی ہدف پاک یورپی یونین تعلقات کو مزید مضبوط اور مستقبل کی ضروریات سے ہم آہنگ بنانا ہے۔ یہ شراکت داری تجارت اور اقتصادی ترقی کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ پاکستان اور یورپی یونین علاقائی اور عالمی استحکام کے حوالے سے مشترکہ ترجیحات رکھتے ہیں، جبکہ پاکستان خطے کی ایک بڑی طاقت ہے اور یورپی یونین کا اہم شراکت دار ہے، نائب وزیراعظم نے یورپی یونین کے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے یورپی یونین کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔ انہوں نے کہا کہ یورپی یونین قیادت اور کایاکالاس کی جانب سے پاکستان کے ساتھ مسلسل رابطہ قابل ستائش ہے۔ خصوصاً پاک بھارت کشیدگی اور امریکہ۔ ایران تنازع کے دوران دونوں فریق قریبی رابطے میں رہے۔ اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین طویل المدتی شراکت داری کو نئی سمت دے سکتا ہے جبکہ سٹریٹجک ڈائیلاگ کا تسلسل دونوں فریقوں کے درمیان متحرک اور مستقبل پر مبنی تعلقات کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے حالیہ دور سے مثبت اور بامعنی نتائج برآمد ہونگے اور دونوں جانب تعاون کے لیے شعبوں کی تلاش اور مشترکہ مفادات کے فروغ پر توجہ دی جائے گی۔ وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی باتیں حقیقت پر مبنی ہیں، اس بات سے ہر شخص آگاہ ہے کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے اور یہ امر قابل ذکر ہے کہ یورپی یونین کے کسی اعلیٰ خارجہ پالیسی عہدیدار کا پاکستان کا یہ دورہ 7برس بعد ہو رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سٹریٹجک مذاکرات کے دوران سکیورٹی’ انسداد دہشت گردی اور افغانستان میں فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے عناصر کی موجودگی سے متعلق امور پر بھی بات چیت کی گئی۔ انہوں نے امریکا’ ایران’ بحران کے دوران تعاون پر یورپی یونین کا شکریہ ادا بھی کیا۔ پاکستان یورپی یونین سٹریٹجک ڈائیلاگ کا یہ 8واں دور سکیورٹی’ علاقائی صورتحال’ تجارت’ اقتصادی تعاون اور کثیر الجہتی روابط سمیت مختلف شعبوں پر مرکوز ہے۔ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا چاہیے۔ نائب وزیراعظم ووزیر خارجہ اسحاق ڈار اور یورپی یونین کی نمائندہ کی ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان شراکت داری کے مزید فروغ پر اتفاق کیا گیا۔ ملاقات کے دوران دونوں رہنمائوں نے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔ یورپی یونین کی قیادت اور اعلیٰ نمائندہ کی پاکستان کے ساتھ مسلسل روابط قابل قدر ہیں۔ یورپی یونین دنیا کے 27 بڑے ممالک کی نمائندہ تنظیم ہے کسی بھی ملک کو اس یونین کا حصہ ہونا ملک کے لیے ہی نہیں بلکہ اس کے عوام کیلئے بھی سودمند ہے دنیا بڑی تیزی سے ترقی کے زینے پر کھڑی ہو گئی ہے۔ ایک ایسے وقت میں یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کی سربراہ کا دورہ پاکستان میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اس سے پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان قائم تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں بڑی مدد ملے گی۔




