200 یونٹ سے کم بجلی کے استعمال پر سبسڈی جاری رکھنے کا فیصلہ (اداریہ)

گزشتہ چار برسوں کے دوران پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد 95 لاکھ سے بڑھ کر 2کروڑ 15لاکھ ہو چکی ہے۔ اس وقت ملک میں تقریباً 2کروڑ 95لاکھ 70ہزار گھریلو صارفین یعنی 86 فیصد صارفین کسی نہ کسی صورت میں سبسڈی سے مستفید ہو رہے ہیں۔ 200 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین کی تعداد 2 کروڑ سے زائد ہو چکی ہے۔ سبسڈی حاصل کرنے والے صارفین بلوں پر ایک کیو آر کوڈ آتا ہے اُسے سکین کریں، وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ کوشش ہے تمام صارفین کو کیوآر کوڈ ساتھ منسلک کریں۔ حق دار صارفین کو سبسڈی جاری رکھیں گے، پچھلے دو سالوں سے بجلی کی قیمت میں کمی آئی ہے۔ حکومت نے 780 ارب کا گردشی قرضہ کم کیا ہے۔ بجلی کی پیداوار کے لیے مقامی ذرائع پر انحصار بھی بڑھ رہا ہے۔ غربت کے مارے بجلی کے صارفین کیلئے وفاقی حکومت کا یہ احسن اقدام ہے اس سے غریب آدمی بھی خوشحال ہو گا۔ 20 لاکھ افراد کے شناختی کارڈ کے ذریعے بجلی میٹر کو لنک کیا گیا ہے۔ پروٹیکٹڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی خبریں حقائق کے منافی ہیں۔ شعبہ توانائی میں اصلاحات سے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں۔ گھریلو صارفین کے بلوں میں 16 فیصد اور پروٹیکٹڈ صارفین کے بلوں میں 32 فیصد کمی کی ہے۔ مجموعی طور پر زرعی اور گھریلو صارفین کو 527 ارب کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ اویس لغاری نے کہا کہ آزاد کشمیر کے صارفین کیلئے 45 فیصد بجلی کی قیمتوں میں کمی کی۔ آئی پی پیز معاہدوں سے 3500 ارب کی بچت کی ہے جبکہ بجلی بلوں پر ٹیکسز کی کوئی تجویز زیرغور نہیں۔ حکومت نے 780 ارب کا گردشی قرضہ بھی کم کیا ہے۔ شعبہ توانائی میں اصلاحات سے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ مجموعی طور پر زرعی اور گھریلو صارفین کو 527 ارب کی سبسڈی دی جا رہی ہے۔ بجلی پر سبسڈی لینے والوں کی تعداد چار سال میں 35 لاکھ سے بڑھ کر 2کروڑ 15لاکھ ہو گئی ہے۔ اس وقت 2کروڑ 95 لاکھ 70ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی دی جا رہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ وفاقی حکومت کا ایک ایسے موقع پر بجلی صارفین کو ریلیف فراہم کرنا خوش آئند ہے جبکہ مہنگائی اپنے عروج پر ہے۔ اوپر سے عام اور غریب آدمی کو بجلی کے بلوں میں سبسڈی دینا وفاقی حکومت کا احسن اقدام ہے۔ سفید پوش نے بھاری بھر بجلی کے بلوں کی وجہ سے غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنا شروع کر دی تھی۔ وہ مہنگائی کی وجہ سے پس کر رہ گیا تھا۔ حکمرانوں کو عوام کی حالت زار بہتر کرنے کیلئے بہتر سے بہتر اقدامات کرنا ہونگے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں