فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) جدید تقاضوں اور پاکستانی عوام کی بڑھتی مشکلات کے ازالہ کے لیے سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیوں کے استعمال کے فروغ کے لیے حکومتی سطح پر اقدامات ضروری ہیں۔ بجٹ میں الیکٹرک گاڑیوں اور سولر پینلز کی درآمد پر عائد ٹیکس کی شرح بڑھا نے کی بجائے کمی کی جائے۔ ملک میں ہر قسم کی گاڑیوں کو ”آئل فری” کرنے اور سستی بجلی کے لیے تر جیحی اقدامات وقت کی ضرورت ہے۔حکومت اگر سنجیدہ ہواور تواناء نرخ خطہ کے برابر لائے تو برامدات میں اربوں ڈالر کا اضافہ کیا جاسکتا ہے ان خیالات کا اظہار سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری رانا زاہد توصیف نے کیا انہوں نے کہا کہ مہنگی بجلی سے نجات کے لیے ہمیں شمسی توانائی سے استفادہ کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ اس کے لیے حکومت نہ صرف سولر پینلز کے استعمال کے فروغ کے لیے ملک گیر سطح پر آگاہی مہم کا آغاز کرے۔ بلکہ عائد ٹیکسز کا خاتمہ کرنے کے ساتھ ساتھ غریب طبقہ کو آسان اقساط پر قرض فراہم کرے۔ اسی طرح ملکی سطح پر الیکٹرک گاڑیوں کی تیاری کے لیے منصوبہ بندی کی جائے۔ اگر ہم تین چار سال تک پاکستان کے اندر الیکٹرک گاڑیاں تیار کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو مہنگی ترین پٹرولیم مصنوعات سے نجات مل جائے گی۔ وفاقی بجٹ میں مجوزہ طور پر ٹیکسز بڑھانے سے سولر پینلز اور الیکٹرک گاڑیاں مہنگی ہونے کا خدشہ ہے۔ اس لیے حکمران عوام کے لیے مشکلات بڑھانیکی بجائے آسانی پیدا کریں۔ بجٹ میں صنعت و تجارت، برآمدات کو فروغ دینے کے لیے شرح ٹیکسز میں نمایاں کمی ضروری ہے۔




