ساہیوال (بیورو چیف) شدید گرمی کی لہر کے ساتھ ہی جعلی اور غیر معیاری مشروبات کا مکروہ کاروبار ہی اور غیر معیاری عروج پر پہنچ گیا، جہاں شہریوں کی صحبت سے کھلے عام کھیلنے کا سلسلہ جاری ہے۔ شہر کے مختلف بازاروں، چوکو ں اور گلی محلوں میں مضر صحت کیمیکلز، مصنوعی ایسنس اور غیر معیاری اجزاء سے تیار کردہ جعلی کولڈ ڈرنکس، شربت اور مشروبات دھڑلے سے فرو خت کیے جا رہے ہیں، جسکے باعث پیٹ کی بیماریو ں، فوڈ پوائرنگ، ڈائریا، گیسٹرو اور مہینے کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ گرمی بڑھتے ہی سنتے اور غیر رجسٹرڈ مشروبات کی بھر مار ہو جاتی ہے۔ بازاروں میں ایسے مشروبات کھلے عام فروخت ہورہے ہیں جن پر نہ کسی کمپنی کا نام درج ہے، نہ ایکسپائری ڈیٹ اور نہ ہی کوئی معیاری لیبل موجود ہے۔ کم قیمت کے لالچ میں غریب اور دیہاڑی دار طبقہ یہی جعلی مشروبات خریدنے پر مجبور ہو جاتا ہے، جس کے نتیجے میں بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ دو ہفتوں کے دوران ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال اور مختلف پرائیویٹ کلینکس میں ڈائر یا معدے کے انفیکشن، قے، پیٹ در داور گیسٹرو کے مریضو ں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سول سوسائٹی، شہری حلقوں اور تاجر تنظیموں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی کمشنر اور ڈپٹی کمشنر ساہیوال سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جعلی مشروبات تیار کرنے والی فیکٹریوں، گوداموں اور سپلائی نیٹ ورک کے خلاف ہنگامی بنیادوں پر کریک ڈاؤن کیا جائے۔




