ڈیجیٹل سروسز اور کیش لیس ادائیگیاں ،پنجاب کا بڑا منصوبہ منظور

لاہور (بیوروچیف) پنجاب حکومت نے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر اور کیش لیس معیشت کے فروغ کے لیے کنیکٹڈ پنجاب پروگرام کے تحت عالمی بینک سے فنانسنگ لینے کی منظوری دے دی ہے۔ پروگرام کے لیے عالمی بینک سے 19 ارب روپے کی بلاسود قلیل مدتی فنانسنگ حاصل کی جائے گی۔منصوبے کے تحت تیز رفتار اور سستے براڈ بینڈ انٹرنیٹ کی رسائی بڑھانے کے لیے 24 ملین ڈالر مختص کیے جائیں گے، جس پر تقریبا 6.7ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے۔ ڈیجیٹل سرکاری خدمات اور مشترکہ کمپیوٹنگ انفراسٹرکچر کی ترقی کے لیے 32ملین ڈالر فراہم کیے جائیں گے، جبکہ ڈیجیٹل سروس ڈلیوری پر 8.9ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔پنجاب کو کیش لیس معیشت کی جانب منتقل کرنے کے لیے 12ملین ڈالر مختص کیے جائیں گے۔ اس رقم سے ڈیجیٹل انوائس مینجمنٹ اور پوائنٹ آف سیل سسٹمز کے قیام پر 3.3ارب روپے خرچ ہونگے۔، جبکہ کاروباری اداروں اور صارفین میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے استعمال کو فروغ دیا جائیگا۔ براڈ بینڈ اور ڈیجیٹل سروسز کے منصوبوں پر پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ عملدرآمد کرے گا، جبکہ کیش لیس ٹرانزیکشنز کے منصوبے کی ذمہ داری پنجاب ریونیو اتھارٹی کو سونپی جائے گی۔حکومت نے پروگرام کے تحت تکنیکی معاونت کے لیے مزید 2ملین ڈالر، تقریبا 56کروڑ روپے، خرچ کرنے کی بھی منظوری دی ہے۔
اس کے علاوہ عالمی بینک کے ساتھ معاہدہ کرنے کی منظوری دیتے ہوئے سیکرٹری پلاننگ کو معاہدے پر دستخط کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں