لاہور(بیوروچیف)وزیر خزانہ پنجاب مجتبیٰ شجاع الرحمن نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت 16 جون کو بجٹ پیش کرے گی ،گزشتہ دو مالی سالوں کی طرح آئندہ مالی سال میں بھی کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا جا رہا، وزیر اعلی مریم نواز شریف کی ہدایت پر بجٹ کی تیاری عوامی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے کی جارہی ہے ، آ ئند ہ مالی سال کے بجٹ میں انڈسٹریل انفراسٹرکچر پر سرمایہ کاری کی جائے گی ،لوگوں کو روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ خزانہ پنجاب کے زیر اہتمام رائونڈ ٹیبل پری بجٹ کانفرنس 2026-27 سے خطاب کے دوران کیا ۔ صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن نے بتایا کہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار حکومتی سطح پر بجٹ سے پہلے تمام سٹیک ہولڈرز کو اپنے مسائل اورتجاویزپیش کرنے کو موقع دیا جا رہا ہے جس کا مقصد عوامی بجٹ کی تشکیل ہے ۔پری بجٹ رانڈ ٹیبل کانفرنس میں انٹرنیشنل ڈونرز چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز ، اکیڈیمیا، انسٹیٹیوٹ آف چارٹرڈ اکائونٹنٹسس ، ایگری کلچر ایسوسی ایشن ، ٹیکسٹائل ایسوسی ایشن ، میڈیا اور سول سوسائٹی کے نمائندگان نے شرکت کی ۔ وزیر خزانہ نے شرکا ء کو پنجاب حکومت کی گزشتہ دو سال کی کارکردگی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ پہلی بار کسی حکومت نے اپنے اعلان کردہ تمام منصوبہ جات پر باقاعدہ کام کاآغاز کیا اور متعدد منصوبہ جات مکمل کیے۔صوبائی وزیر مجتبیٰ شجاع الرحمن نے اپنا گھر اپنی چھت ،ستھرا پنجاب کسان کارڈ اور رمضان نگہبان پیکج کو پنجاب حکومت کے فلیگ شپ پروگرامز قرار دیتے ہوئے کہا کہ بتایا کہ اپنی چھت اپنا گھر پروگرام کے تحت اب تک 133,990 ہائوسنگ قرضہ جات جاری کیے جا چکے ہیں ۔ستھرا پنجاب کا دائرہ کار ضلعی اور تحصیل سطح پر شہروںسے دیہاتوں تک بڑھا دیا گیا ہے ۔ گزشتہ سال اس پروگرام کے لیے 106 ارب روپے مختص کیے گئے تھے جبکہ رواں مالی سال میں 99 ارب 41 کروڑ جاری کیے گئے ہیں ۔ جن کی یوٹیلائزیزشن کا ثبوت عید الاضحی پر صفائی کے فول پروف انتظامات تھے ۔ صوبے کی موجودہ معاشی صورتحال سے آگاہ کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال وفاقی و صوبائی حکومت دونوں کے لیے آسان نہیں تھا ۔ پنجاب کو صدی کے بد ترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ۔ جس سے 27 اضلاع متاثر ہوئے ۔ وزیر اعلی مریم نواز شریف کی قیادت میں تاریخ میں پہلی بار کسی صوبائی حکومت وفاق کی مدد کے بغیر اپنے ذاتی وسائل سے متاثرین کی بحالی کو یقینی بنایا اور تقریبا 50 ارب روپے کی امداد تقسیم کی ۔ امریکہ اور ایران کے مابین کشیدگی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے مالی مشکلات میں کمی کے لیے سرکاری سطح پر فیول کے اخراجات میں 50 فیصد تک کمی کی گئی۔وزیر اعلی ،صوبائی وزرا اور پارلیمانی سیکرٹریز نے دو ماہ کی تنخواہ وصول نہیں کی ۔ دیگر اراکین اسمبلی کی تنخواہوں میں سے 25 فیصد کٹوتی کی گئی اور دو لاکھ 20 ہزار موثر سائیکل مالکان کوفیول کے اخراجات میں کمی کے لیے 200 ہزار روپے ماہانہ اور 2 لاکھ 26 ہزار کسانوں کو 1500 روپے فی ایکٹر کی امداد مہیا کی گئی۔ عام آدمی کو مفت سفری سہولیات مہیا کرنے کے لیے 75 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔اس سب کے باوجود 100 سے زائد اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنایا گیا۔ صوبائی وزیر نے کانفرنس کے شرکا کو یقین دلایا کہ پنجاب کی یہ پری بجٹ رانڈ ٹیبل کانفرنس محض ایک رومی کانفرنس نہیں ہے ۔یہاں پیش کی جانے والی تجاویز کو جس حد تک ممکن ہوا بجٹ کا حصہ بنایا جائے گا تاہم تجاویز پر سو فیصد عمل درآمد کے لیے ٹیکسز کی ادائیگی یقینی بنانی ہو گی ۔انہوں نے کہا کہ 13 کروڑ کی ابادی کے مسائل کے حل کے لیے موجود وسائل ناکافی ہیں اس کے باوجود موجودہ حکومت اپنی عوام پر کوئی نیا ٹیکس عائد کرنے کے لیے آمادہ نہیں ۔ وسائل کے حصول کے لیے ٹیکس نیٹ کے پھیلا ،صنتعکاری اور کاروبار میں آسانی کو ترجیح دے رہے ہیں ۔ آ ئند ہ بجٹ میں اکنامک زونرز اور انڈسٹریل انفراسٹرکچر کی فراہمی کو یقینی بنائیں گے اور تمام صنعتوں کے فروغ کے لیے ٹھوس اقدامات لیے جائیں گے ۔کانفرنس میں چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری، میڈیا ، اکیڈمیاں اور سول سوسائٹی کی جانب سے تجاویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے عندیہ دیا کہ آئندہ بجٹ سے قبل یہ پری بجٹ رانڈ کانفرنس مئی میں کروائی جائے گی تاکہ سٹیک ہولڈرز سے بروقت تجاویز کو بجٹ کا حصہ بنایا جا سکے ۔




