ماسک،دستانے نہ مل سکے،ستھرا پنجاب کے ورکرز بیماریوں کا شکار ہونے لگے

جڑانوالہ( نامہ نگار) ”شہریوں کو آلودگی سے پاک صاف ستھرا ماحول فراہم کرنیوالے ستھرا پنجاب کے سینکڑوں ورکرز کی زندگیاں خطرے میں پڑنے کا انکشاف” علاج معالجہ کی بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی پر ستھرا پنجاب کے سینکڑوں ورکرز مبینہ طور پر جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں، مبینہ جان لیوا بیماریوں کا شکار ہونیوالے ورکرز کے کوائف اور ڈیٹا مرتب کرکے انکے ٹیسٹ کروائے جائیں بلکہ غفلت و کوتاہی کے مرتکب ستھرا پنجاب افسران کیخلاف سخت کارروائی کی جائے،دوران ڈیوٹی ورکرز کو ماسک دستانے و دیگر ضروری سامان نہ ملنے کے انکشاف پر ارباب اختیار سے معاملے کی اعلی سطحی خفیہ انکوائری کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق فیصل آباد میں ستھرا پنجاب میں 1 ارب روپے کی مبینہ کرپشن پر مقدمہ کے اندراج کے معاملہ نے ستھرا پنجاب ویسٹ مینجمنٹ کمپنیوں میں شفافیت اور حاصل ہونیوالے فنڈز کے استعمال پر کئی سوالات کھڑے کر دئیے ہیں تو دوسری جانب جڑانوالہ ستھرا پنجاب ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں کام کرنے والے سینکڑوں ورکرز صحت کی بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی پر مبینہ طور پر جان لیوا بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ معاہدے کے تحت ستھرا پنجاب ویسٹ منیجمنٹ کمپنی میں کام کرنے والے ورکرز کو دوران ڈیوٹی ماسک دستانے و دیگر ضروری سامان فراہم کرنا ضروری ہے مگر جڑانوالہ ستھرا پنجاب میں کام کرنے والے ورکرز کو مبینہ طور پر ضروری سامان فراہم نہ کیا جانے کا انکشاف ہوا ہے اور مین شاہراہوں سڑکوں پر ستھرا پنجاب کی جانب سے پانی کا چھڑکائو نہ ہونے کے برابر ہے جسکے باعث کام کے دوران گرد و غبار اٹھنے سے ورکرز مبینہ طور پر سانس اور دمہ کی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں جبکہ ستھرا پنجاب ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے کا دکا مقامات پر فوٹو سیشن کے دوران ورکرز کو ماسک پہنا کر مبینہ طور پر افسران بالا کی آنکھوں میں دھول جھونکی جا رہی ہے جو ارباب اختیار کیلئے لمحہ فکریہ ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ جڑانوالہ اور کھرڑیانوالہ ستھرا پنجاب ویسٹ مینجمنٹ کمپنی میں 1450 سے زائد ورکرز کام کرتے ہیں جن کی ماہانہ تنخواہیوں سے فی ورکر 400 روپے علاج کی غرض سے کاٹے جاتے ہیں 400 روپے فی ورکر کے حساب سے ماہانہ اٹھاون ہزار (58000)سالانہ کٹوتی 69 لاکھ 60 ہزار روپے اور 2 سال کی کٹوتی کی رقم تقریباً 1 کروڑ 39 لاکھ روپے کے قریب بنتی ہیں مگر اسکے باوجود مبینہ طور پر سینکڑوں ورکرز کو علاج معالجہ کیلئے شوشل سیکیورٹی کی جانب سے تاحال کارڈز جاری نہ ہو پائے ہیں جس کی بنا پر مبینہ طور پر سینکڑوں ورکرز علاج معالجہ کی بنیادی سہولیات سے نہ صرف محروم ہو چکے ہیں بلکہ انکی زندگیاں بھی دا پر لگ چکی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ علاج معالجہ کیلئے سوشل سیکیورٹی کارڈز کا تقاضا کرنیوالے ورکرز کو افسران کی جانب سے کمپنی سے نکالنے کی مبینہ دھمکیاں دی جاتی ہے جڑانوالہ ستھرا پنجاب ویسٹ مینجمنٹ کمپنی کی جانب سے مبینہ طور پر ورکرز کے علاج معالجہ میں تاخیر پر عوامی سماجی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہریوں کو آلودگی سے پاک صاف ستھرا ماحول فراہم کرنے والے سینکڑوں ورکرز مبینہ طور پر خود بیماریوں کا شکار ہو چکے ہیں۔ عوامی سماجی حلقوں نے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سمیت دیگر ارباب اختیار سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ جڑانوالہ ستھرا پنجاب ورکرز کے کوائف اور ڈیٹا اکٹھا کرکے خفیہ انکوائری کی جائے اور مبینہ بیماریوں کا شکار ورکرز کے ٹیسٹ کروائے جائیں تاکہ انکی زندگیاں محفوظ بنائی جا سکے جبکہ جڑانوالہ ستھرا پنجاب ویسٹ منیجمنٹ کمپنی کی مبینہ لاپرواہی و غفلت کا نوٹس لیکر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں