اسلام آباد (بیوروچیف) حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے،انکم ٹیکس سلیب کی تعداد6سے بڑھا کر 8کی جا سکتی ہے۔ ذرائع کیمطابق ماہانہ ایک لاکھ 83ہزار روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد کو ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے،جبکہ زیادہ آمدن والوں کے لیے بھی ٹیکس شرح میں نرمی کی تجاویز شامل ہیں۔ذرائع کیمطابق ماہانہ ایک لاکھ 83ہزار روپے سے زائد آمدن رکھنے والے افراد کو ریلیف دینے پر غور کیا جا رہا ہے،جبکہ زیادہ آمدن والوں کے لیے بھی ٹیکس شرح میں نرمی کی تجاویز شامل ہیں،مجوزہ منصوبے کے تحت ماہانہ 2 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر انکم ٹیکس میں 5 فیصد کمی کی تجویز ہے،جس کے بعد اس سلیب میں ٹیکس شرح 25 فیصدسے کم ہوکر 20 فیصد تک آسکتی ہے،اس سلیب سے تقریباً 4 لاکھ ملازمین مستفید ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کا کا کہنا ہے کہ ماہانہ 4 لاکھ 67 ہزار روپے تک آمدن پر 29 فیصد ٹیکس لگانے، جبکہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے تک آمدن پر 32 فیصد ٹیکس شرح مقررکرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے،جبکہ 5 لاکھ 83 ہزار روپے سے زائد ماہانہ آمدن پر زیادہ سے زیادہ 35 فیصد ٹیکس برقرار رکھنے کا امکان ہے،سالانہ 70 لاکھ روپے سے زائد آمدن والوں پر یہی شرح لاگو کرنے کی تجویز ہے،جبکہ سالانہ ایک کروڑ سے زائد کمانے والوں پر عائد سرچارج ختم ہو سکتا ہے۔




