ماموں کانجن(نامہ نگار) ماموں کانجن کے ایک بنک میں نقلی گولڈ کے عوض کروڑوں کا قرضہ نکلوانے کا انکشاف سامنے آیا ہے، مقصود حسین نامی شخص کی درخواست پر معاملے کی انکوائری کیلئے ٹیم ماموں کانجن پہنچ گئی ہے تفصلات کے مطابق دی پنجاب پراونشل کواپرٹیو بنک لمٹیڈ میں برانچ کے نامزد صراف محمد طاہر پر اپنے جاننے والے افراد اور برانچ منیجر کی ملی بھگت سے بنک کو کروڑوں کا چونا لگانے کے الزام کاانکشاف ہوا ہے جس میں نقلی سونے کے زیورات پلج کراکرقرضہ حاصل کرنے کاالزام ہے ،ذہنی دبا کا شکار برانچ منیجر گزشتہ روز دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگیا، مذکورہ فراڈ کاانکشاف چک508گ ب کے رہائشی مقصود حسین مارتھ کی ریجنل منیجر ایف آئی اے اور متعلقہ بنک کے اعلی حکام کو دی گئی درخواست کے بعد سامنے آیا ہے درخواست دہندہ کے مطابق اس نے مذکورہ برانچ میں189گرام سونا پلج کروا کر قرض حاصل کیا تھاجو اس نے گزشتہ سال واپس کرکے اپنا کھاتہ کلیئر کردیا ہے مگر بنک کاعملہ اسکے زیورات واپس نہیں دے رہا معاملہ کی تحقیقات شروع ہوئیں تو مزید انکشاف ہوا کہ اس کے علاوہ بھی کئی کیس ہیں جن میں برانچ منیجر کی ملی بھگت سے نامزد سنیار نے نقلی سونے کے زیورات کو اصل ظاہر کرتے ہوئے ان کاسرٹیفکیٹ جاری کئے ہوئے ہیں جس پر کسٹمرز نے بنک سے بھاری قرضے حاصل کررکھے ہیں اور کئی کسٹمرز کے اصل زیورات بھی برانچ منیجر سے ساز باز ہو کر لاکر سے نکلوا کر اپنا کاروبار چلاتا رہا انکوائری ٹیم نے زونل منیجر مہر نور محمد سیال، مذکورہ برانچ کے ایکرو آفیسر محمد ارشد،کیشیئر عبدالرزاق اورآپریشنل برانچ آفیسر محمد اکبر،برانچ کمپلائنس آفیسر یاسر برانچ کے نامزد سناروں محمد طاہر اور طارق عزیز کے علاوہ زیورات پلج کرواکر لون لینے والے کسٹمرز مقصوداحمدمارتھ،عبدالحمید،محمد افضل اورناصر علی کے بیانات بھی قلمبند کئیہیں جبکہ مبینہ فراڈ کا ایک ام کردار برانچ منیجر محمد رافع مدثر جس پر نامزد سنیارہ طاہر سے ملکر فراڈ کرنے کاالزام ہے وہ چند روز قبل اسی فراڈ کاانکشاف پر ریکوری نہ ہوسکنے پر دل کادورہ پڑنے سے انتقال کرگیا تھا۔ تاہم مبینہ فراڈ کے اصل حقائق انکوائری رپورٹ مکمل ہونے پر ہی سامنے آسکیں گے کہ فراڈ ہوا کہ نہیں ہوا اگر ہوا ہے تو اس میں کون کون ملوث ہے۔




