آئی ایم ایف کو خیرباد کہنے کیلئے حکمت عملی تیار کی جا رہی ہے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر)وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان مشکل معاشی حالات کے باوجود کاروباری برادری کی مشاورت سے ملکی معیشت کو مستحکم بنانے اور نوجوانوں کو ترقی کے مواقع فراہم کرنے کیلئے بھرپور اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 65فیصد سے زائد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے، جنہیں مثبت انداز میں قومی دھارے میں شامل کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔وہ فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کر رہے تھے۔رانا مشہود احمد خاںنے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں چیمبرز آف کامرس کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ حکومت ہر اہم معاشی فیصلے اور پالیسی سازی میں کاروباری برادری اور چیمبرز کو اپنا شراکت دار سمجھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہمیشہ کاروبار دوست پالیسیوں پر عمل پیرا رہی ہے اور آئندہ بجٹ کی تیاری کے دوران بھی وزیراعظم، وزیر خزانہ، وزیر تجارت اور دیگر متعلقہ وزراء نے تاجروں اور صنعتکاروں سے مشاورت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کو انتہائی مشکل معاشی حالات ورثے میں ملے، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے پاکستان کو معاشی بحران سے نکالنے کیلئے دن رات محنت کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح معیشت کی بحالی اور آئی ایم ایف پروگرام سے جلد از جلد نکلنے کیلئے قابل عمل حکمت عملی تیار کرنا ہے۔رانا مشہود احمد خاں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے حالیہ بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دے کر دنیا بھر میں پاکستان کا وقار بلند کیا ہے اور قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ملکی استحکام اور امن ہی معاشی ترقی کی بنیاد ہیں۔انہوں نے کہا کہ دشمن عناصر نوجوانوں میں مایوسی اور بے یقینی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم حکومت نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، کھیل، آئی ٹی، سائنس و ٹیکنالوجی، آرٹ اینڈ کلچر اور روزگار کے مواقع فراہم کرکے انہیں مثبت سمت میں آگے بڑھا رہی ہے۔چیئرمین وزیراعظم یوتھ پروگرام نے کہا کہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے پاکستان کی پہلی جامع یوتھ پالیسی متعارف کروائی، لیپ ٹاپ اسکیم، وظائف، پنجاب ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ، دانش اسکولز، آسان قرضہ اسکیموں اور یوتھ فیسٹیولز جیسے منصوبے شروع کیے جن کے مثبت نتائج سامنے آئے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعظم یوتھ بزنس اینڈ ایگریکلچر لون اسکیم، نیشنل انکیوبیشن سینٹرز، نیشنل انوویشن ایوارڈز اور اسٹارٹ اپس کی سرپرستی کے ذریعے نوجوانوں کو کاروبار اور جدت کے مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔ اس سال ملک کے 100 بہترین کاروباری آئیڈیاز کی مالی معاونت کی جا رہی ہے جبکہ ”میڈ اِن پاکستان پرفیکٹ پچز” کے نام سے ایک نیا پروگرام بھی شروع کیا جا رہا ہے جس کے ذریعے نوجوان کاروباری افراد کو بڑے صنعتی اداروں سے جوڑا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ حکومت صنعت، جامعات اور تحقیقاتی اداروں کے درمیان مؤثر روابط کے فروغ کیلئے ”ٹرپل ہیلکس ماڈل” پر کام کر رہی ہے تاکہ مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق ہنر مند افرادی قوت تیار کی جا سکے۔ نیوٹک اور دیگر اداروں کے ذریعے مصنوعی ذہانت I) سمیت مستقبل کی ضروری مہارتوں پر مبنی تربیتی پروگرام شروع کیے جا رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت نئے صنعتی منصوبوں پر عملدرآمد کا آغاز ہو رہا ہے، جس کیلئے ہنر مند افرادی قوت کی تیاری جاری ہے۔ حکومت صنعتوں کی ضروریات کے مطابق نوجوانوں کو وائٹ کالر، بلیو کالر اور گرے کالر شعبوں میں تربیت فراہم کر رہی ہے۔رانا مشہود احمد خان نے کہا کہ حکومت نے ”کنٹری آف ڈیسٹینیشن” پروگرام کے تحت جرمنی، جاپان، مشرق وسطیٰ اور دیگر ممالک کی ضروریات کے مطابق زبانوں اور پیشہ ورانہ مہارتوں کی تربیت کا سلسلہ شروع کیا ہے تاکہ پاکستانی نوجوان عالمی منڈی میں بہتر روزگار حاصل کر سکیں۔انہوں نے بتایا کہ گزشتہ سال تقریباً 9 لاکھ پاکستانی نوجوان بیرون ملک روزگار کیلئے گئے جبکہ رواں سال 21 لاکھ نوجوانوں کو عالمی سطح پر اور 18 لاکھ نوجوانوں کو ملک کے اندر مثبت سرگرمیوں اور روزگار کے مواقع سے منسلک کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں