فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کے بعد مسلمانوں کو عروج حاصل ہوا تمام صحابہ اکرام مرید مصطفی ۖہیں جبکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ مراد مصطفی ۖہیں آپ کے دور خلافت میں بے شمار و فتوحات ہوئیں، ان خیالات کا اظہار سجادہ نشین آستانہ عالیہ محدث اعظم پاکستان صاحبزادہ پیر قاضی محمد فیض رسول قادری چشتی چیئرمین تحریک اہلسنت پاکستان نے شہادت سیدنا عمر بن خطاب کے موقع پر اپنے بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ غزوہ احد میں ابوسفیان کے مشرکانہ نعروں کا جواب بلند آواز میں نعرہ تکبیر سے دے کر خاموش کرا دیا ۔ آپکا اسلام قبول کرنا مسلمانوں کی بہت بڑی فتح تھی ۔ حضرت عمر کے پاس ایک منافق اس وقت فیصلہ لینے کے لئے آیا جب یہودی کے حق میں اور منافق کے خلاف رسول اللہ فیصلہ فرما چکے تھے منافق کا سرتن سے جدا کر کے کہا کہ جس کو ہمارے آقا کا فیصلہ قبول نہیں اسکا فیصلہ عمر کی تلوار کردیتی ہے 25 لاکھ مربع میل کے حاکم کا نہ کوئی محل تھا اور نہ ہی کوئی حفاظتی دستہ آپ نے پولیس ،بیت المال ،ڈاک اور مواصلات کے محکمہ جات کو منظم کیا آج غیر مسلم قوتیں آپ کے نظام کو اپنا کر ترقی یافتہ بن چکی ہیں جبکہ مسلمان آپ کے نظام خلافت سے رو گردانی کر کے دنیا بھر ذلیل ورسوا ہورہے ہیں۔




