فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) شہر میں منظم جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے نتیجے میں امن و امان کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے۔ بعض اعداد و شمار کے مطابق اغواء برائے تاوان، ڈکیتی اور اسلحہ کے زور پر لوٹ مار جیسے سنگین جرائم میں 70 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو ایک اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت ہے۔یہ بات سٹی پولیس آفیسر تنویر حسین نے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری میں بزنس کمیونٹی سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ موٹرسائیکل اور گاڑیوں کی چوری، اسنیچنگ اور دیگر اسٹریٹ کرائمز میں بھی واضح کمی دیکھی گئی ہے جس سے شہریوں کے تحفظ کے احساس میں اضافہ ہوا ہے اور عوامی اعتماد بحال ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی تمام کوششوں کا مقصد ایک محفوظ، پُرامن اور جرائم سے پاک معاشرہ قائم کرنا ہے جہاں ہر شہری بلا خوف و خطر اپنی روزمرہ زندگی گزار سکے۔ چونکہ یہ تمام اقدامات عوام کے ٹیکسوں سے حاصل ہونے والے وسائل سے کیے جا رہے ہیں، اس لیے ان کے ثمرات براہِ راست عوام تک پہنچنا ضروری ہیں۔انہوں نے آئس (Ice) کے بڑھتے ہوئے استعمال کو بھی ایک بڑا چیلنج قرار دیا اورکہا کہ یہ خطرناک نشہ نوجوانوں کی ذہنی و جسمانی صحت کو متاثر کرنے کے ساتھ بعض اوقات جرائم میں اضافے کا سبب بھی بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور متعلقہ ادارے اس کے خلاف بھرپور کارروائیاں کر رہے ہیں اور اس کی سپلائی چین کے خاتمے کے لیے مربوط اقدامات جاری ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ٹریفک قوانین کی مؤثر عملداری اور جرمانوں کا مقصد آمدن حاصل کرنا نہیں بلکہ شہریوں کو محفوظ ڈرائیونگ اور قانون کی پابندی کی طرف راغب کرنا ہے۔ قانون کی نظر میں تمام شہری برابر ہیں اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر بلا امتیاز کارروائی کی جاتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صرف پولیس یا سیف سٹی سسٹم پر انحصار کرنے کے بجائے ہمیں بطور شہری بھی اپنی ذمہ داری ادا کرنی چاہیے۔ اگر ہم اپنے گھروں، دفاتر اور فیکٹریوں میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں تو اس سے سیکورٹی کا دائرہ مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ اس طرح مجموعی طور پر ایک مربوط نگرانی کا نظام قائم ہو جائے گا جس سے جرائم کی روک تھام میں نمایاں مدد ملے گی۔اسی طرح بہت سے افراد اور فیکٹری ورکرز کے پاس موٹر سائیکلیں ہوتی ہیں۔ ان میں ٹریکنگ سسٹم یا جدید سیکورٹی آلات کی تنصیب بھی وقت کی ضرورت ہے تاکہ چوری اور چھیننے جیسے واقعات میں کمی لائی جا سکے۔ اگر شہری خود بھی حفاظتی اقدامات اختیار کریں تو سیکورٹی کا نظام مزید مؤثر ہو جاتا ہے۔سٹی پولیس آفیسر نے کہا کہ چیک ڈس آنر (دفعہ 489-F) کے مقدمات میں کارروائی کے طریقہ کار کو آسان بنایا گیا ہے اور مکمل دستاویزی شواہد کی موجودگی میں مقدمات کے اندراج میں غیر ضروری تاخیر نہیں ہوگی۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پولیس شہریوں اور کاروباری برادری کے قانونی حقوق کے تحفظ اور انصاف کی بروقت فراہمی کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔انہوں نے آن لائن فراڈ اور سائبر کرائمز کو بھی ایک اہم چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ متعلقہ اداروں کی استعداد کار میں اضافہ کیا جا رہا ہے اور ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کو مزید مضبوط بنایا جا رہا ہے تاکہ شہریوں کو سائبر جرائم سے بہتر تحفظ فراہم کیا جا سکے۔صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری فاروق یوسف شیخ نے سٹی پولیس آفیسر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنی طرف سے اور پوری کاروباری برادری کی جانب سے آپ کے اس مثبت اقدام کو سراہتے ہیں کہ آپ نے اپنی پہلی ہی میٹنگ میں ایک سینئر پولیس افسر کو فوکل پرسن نامزد کیا تاکہ کاروباری برادری کے مسائل اور تحفظات کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔ یہ اقدام نہ صرف کاروباری طبقے کے لیے حوصلہ افزا ہے بلکہ پولیس اور تاجروں کے درمیان رابطوں کو مزید مؤثر اور مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک کو دو بڑے خساروں کا سامنا ہے۔ ایک ٹریڈ ڈیفیسٹ ہے جس پر حکومت اپنی معاشی پالیسیوں کے ذریعے قابو پانے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ دوسرا اور زیادہ اہم مسئلہ ٹرسٹ ڈیفیسٹ یعنی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔ اس اعتماد کے فقدان کو دور کیے بغیر پائیدار ترقی اور خوشحالی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔انہوں نے کہا کہ جب حکومت معیشت کو دستاویزی شکل دینے، ٹیکس نیٹ کو وسعت دینے اور کاروباری ماحول کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کرتی ہے تو کاروباری برادری کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان کوششوں میں حکومت کا ساتھ دے۔ کاروباری طبقے کا کردار صرف مطالبات پیش کرنا نہیں بلکہ قومی مفاد میں کیے جانے والے مثبت اقدامات کی حمایت کرنا بھی ہے۔فاروق یوسف شیخ نے کہا کہ حکومت اور کاروباری برادری کے درمیان باہمی تعاون اور اعتماد ہی مسائل کے حل اور معاشی استحکام کی ضمانت ہے۔ جب ادارے تاجروں کے مسائل کو سنجیدگی سے سنتے ہیں، ان کے تحفظات کا ازالہ کرتے ہیں اور انہیں عزت و احترام دیتے ہیں تو اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کاروباری برادری ملکی معیشت کا پہیہ چلا رہی ہے، روزگار کے مواقع پیدا کر رہی ہے اور قومی خزانے میں نمایاں حصہ ڈال رہی ہے۔ اس لیے ان کی سیکورٹی، سہولت اور تحفظ کو یقینی بنانا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ آپ کی قیادت میں پولیس اور کاروباری برادری کے درمیان تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور باہمی اعتماد کے اس خلا کو ختم کرنے میں مدد ملے گی جو ترقی، خوشحالی اور استحکام کی بنیاد ہے۔انہوںنے فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے وزیر اعظم میاں شہباز شریف،فیلڈ مارشل حافظ عاصم منیراور پاک افواج کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ حال ہی میں مجھے بارسلونا میں ایک تجارتی وفد کی قیادت کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ اس دورے کے دوران وہاں مختلف چیمبرز آف کامرس، کاروباری تنظیموں، سرکاری اداروں اور پاکستانی سفارت خانے کے ساتھ متعدد اہم ملاقاتیں منعقد ہوئیں، جن کے نتیجے میں پاکستانی کاروباری برادری کے لیے نئے اور مثبت مواقع سامنے آئے۔انہوںنے کہا کہ دورے کے دوران ایک بات واضح طور پر سامنے آئی کہ دنیا آج پاکستان کو ایک امن پسند، ذمہ دار اور مثبت سوچ رکھنے والی قوم کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ جب بھی ہم نے پاکستان کو ایک Peace Loving Nationکے طور پر پیش کیا تو وہاں موجود شرکاء نے اس تاثر کی بھرپور تائید کی، جو پاکستان کے بہتر ہوتے ہوئے عالمی تشخص کا واضح ثبوت ہے۔پاکستان کا یہ مثبت امیج کسی ایک فرد یا ادارے کی کوششوں کا نتیجہ نہیں بلکہ اس میں ہماری پاک افواج، حکومتی اداروں، سفارتی مشنز، کاروباری برادری اور پوری قوم کی مشترکہ کاوشیں شامل ہیں۔ پاکستان کا پرچم دنیا بھر میں سربلند کرنے میں یہ تمام ادارے اپنا بھرپور کردار ادا کر رہے ہیں، جس پر ہم انہیں خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔سوال و جواب کی نشست میں سابق صدر چوہدری محمد نواز، وحید خالق رامے، عمر فاروق کاہلوں، اکرم خاں اور محمد علی نارو نے حصہ لیا۔ سینئر نائب صدر نوید اکرم شیخ نے مہمانوں کاشکریہ ادا کیا۔ آخر میں صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس اینڈانڈسٹری نے سٹی پولیس آفیسر تنویر حسین کو چیمبر کی اعزازی شیلڈ پیش کی۔




