فنانس بل میں کوئی نیا ٹیکس شامل نہیں’ ٹیکسز کی شرح میں ردوبدل کی تجویز

لاہور( بیورو چیف)پنجاب کے آئندہ مالی سال کے لئے فنانس بل میں کوئی نیا ٹیکس عائد نہیں کیا گیا تاہم بعض ٹیکسز کی شرح میں ردو بدل کی تجویز پیش کی گئی ہے ،شہروںمیں غیر منقولہ جائیداد پر پراپرٹی ٹیکس کی وصولی مینوئل کی بجائے ای پے سسٹم کے ذریعے کی جائے گی ، پراپرٹی ٹیکس پر کیپٹل ویلیو کو لاگو کرنے کے لئے پنجاب حکومت نے یکم جنوری 2025سے پہلے تشخیص شدہ ٹیکس دہندگان پر پہلے سے منظور شدہ کیپٹل ویلیو ایشن پلان میں 20فیصد کیپنگ مزید شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، فنانس بل میں کسانوں کو ریلیف دینے کے لئے کپاس پر عائد لیوی کو ختم کرنے کی تجویزکی تجویز ہے ،کاشتکاروں سے آبیانہ فصل کے بجائے فلیٹ ریٹ پر وصول کرنے جبکہ کمرشل لوڈر گاڑیوں پر ٹوکن ٹیکس کی شر ح بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ،ٹیکس دہندگان کی پروفائلنگ اور رسک اسیسمنٹ کا نیا نظام نافذ کرنے کی تجویز ہے جس کے مطابق مشکوک ان پٹ ٹیکس کلیم کی جانچ پڑتال کے اختیارات پنجاب ریو نیو اتھارٹی کے پاس ہوں گے ، اسی تناظر میں جرمانوں کی شرح میں نمایاں اضافے کی تجویز دی گئی ہے ،ریسٹورنٹس سروسز کے لئے دوہرے ٹیکس کا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے ، اگر ادائیگی ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ ، موبائل والٹ یا کیو آر کوڈ کے ذریعے کی جائے تو ٹیکس کی شرح 8فیصد کرنے جبکہ اس کے علاوہ ادائیگیوں پر ٹیکس16فیصد کی شرح سے نافذ کرنے کی تجویز ہے،فنانس بل میں سیلز ٹیکس ایکٹ سیکنڈ شیڈول پارٹ تھری کی 12سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح 8فیصد کر نے کی تجویز ہے ،نئی ترمیم کے ذریعے موٹروہیکل ڈیلرز کو محکمہ ایکسائز کا ایجنٹ قرار دے کر گاڑیوں کی فروخت کے مقام پر ہی رجسٹریشن کی تجویز ہے اس سے رجسٹریشن کے تیز رفتار عمل کی حوصلہ افزائی اور بغیر رجسٹریشن کے چلنے والی گاڑیوں کا سد باب ہو جائے گا،نئی تجویز کے تحت ڈیلر گاڑی کی رجسٹریشن اور تمام فیسوں ، ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی ادائیگی اور سرکاری منظور شدہ نمبر پلیٹ نصب ہونے تک گاڑی خریدارکے حوالے نہیں کر ے گا اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ڈیلر ز کو بقایاجات کے ساتھ اتنی ہی رقم بطور جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ پنجاب اسمبلی میں پیش کئے گئے فنانس بل کی دستاویزات کے مطابق شہروںمیں غیر منقولہ جائیداد پر پراپرٹی ٹیکس کی وصولی مینوئل کی بجائے ای پے سسٹم کے ذریعے کی جائے گی ، پراپرٹی ٹیکس پر کیپٹل ویلیو کو لاگو کرنے کے لئے پنجاب حکومت نے یکم جنوری 2025سے پہلے تشخیص شدہ ٹیکس دہندگان پر پہلے سے منظور شدہ کیپٹل ویلیو ایشن پلان میں 20فیصد کیپنگ مزید شامل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ سیلف اسیسمنٹ موڈ کے تحت تشخیص شدہ جائیدادوں کو پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی پر 5فیصد چھوٹ دی جائے گی ۔مزید یہ ٹیکس دہندگان کو ریلیف دینے کیلئے پراپرٹی ٹیکس پر تاخیر سے ادائیگی کا سرچارج موجودہ ماہانہ بنیادوں کی بجائے سہ ماہی بنیادوں پر عائد کرنے کی تجویز ہے ۔ فنانس بل میں کسانوں کو ریلیف دینے کے لئے کپاس پر عائد لیوی کو ختم کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ فنانس بل میں موٹر وہیکل ٹیکسیشن ایکٹ 1958کے شیڈول میں تھرڈ کالم میں سالانہ ریٹ بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ۔ جس کے مطابق 4060کلو گرام سے 8120کلو گرام وزن اٹھانے والے وہیکلز پرٹوکن ٹیکس کی شرح2200کی بجائے6600روپے،8120سے 12000کلو گرام وزن اٹھانے والی وہیکلز پر ٹوکن ٹیکس4ہزار روپے سے بڑھا کر 12000روپے ،12000کلو گرام سے16000کلوگرام وزن اٹھانے والے وہیکلز پر ٹوکن ٹیکس کی شرح6000ہزار سے بڑھا کر18000روپے،16000کلو گرام سے زائد وزن اٹھانے والے وہیکلز پر ٹوکن ٹیکس 8000روپے سے بڑھا کر24000روپے کر دیا گیا ۔1000سی سی سے زائد گاڑیوں کے ٹوکن ٹیکس کی شرح میں قدرے اضافہ کیا گیاہے جس کے مطابق 1000سی سی سے زیادہ لیکن 2000سی سی گاڑیوںپر ٹیکس کی شرح انوائس ویلیو کے جو0.2فیصد تھی اسے بڑھا کر 0.3فیصد کر نے کی تجویز ہے ، 2000سی سی سے زائد گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح انوائس ویلیو کے 0.3فیصد سے بڑھا کر 0.4فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔پنجاب موٹر وہیکل ٹرانزکشن لائسنسی ایکٹ2015میں ترمیم کے ذریعے موٹروہیکل ڈیلرز کو محکمہ ایکسائز کا ایجنٹ قرار دے کر گاڑیوں کی فروخت کے مقام پر ہی رجسٹریشن کی تجویز دی گئی ہے اس سے رجسٹریشن کے تیز رفتار عمل کی حوصلہ افزائی اور بغیر رجسٹریشن کے چلنے والی گاڑیوں کا سد باب ہو جائے گا ۔نئی تجویز کے تحت ڈیلر گاڑی کی رجسٹریشن اور تمام فیسوں ، ڈیوٹیز اور ٹیکسز کی ادائیگی اور سرکاری منظور شدہ نمبر پلیٹ نصب ہونے تک گاڑی خریدارکے حوالے نہیں کر ے گا اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والے ڈیلر ز کو بقایاجات کے ساتھ اتنی ہی رقم بطور جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔پنجاب سیلز ٹیکس آن سروسز ایکٹ2012میں ترمیم کرتے ہوئے ایکٹو ٹیکس پیئر کی نئی تعریف متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے جس کے مطابق دو مسلسل ٹیکس ادوار کے ریٹرنز جمع نہ کرانے والے ایکٹو ٹیکس پیئر نہیں رہیں گے ۔اسی طرح معطل یا بلیک لسٹڈ رجسٹریشن والے افراد ایکٹو ٹیکس پیئر شمار نہیں ہوں گے۔ٹیکس دہندگان کی پروفائلنگ اور رسک اسیسمنٹ کا نیا نظام نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے جس کے مطابق مشکوک ان پٹ ٹیکس کلیم کی جانچ پڑتال کے اختیارات پنجاب ریو نیو اتھارٹی کو دینے کی تجویز دی گئی ہے ۔ غلط ٹیکس کلیم کریڈٹ نیس اور ریفنڈ کی کڑی نگرانی کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جرمانوں کی شرح میں نمایاں اضافے کی تجویز دی گئی ہے ۔ پہلے ڈیفالٹ پر فرد واحد کو ایک لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے اسی طرح ہر اگلے ڈیفالٹ پر اتنی ہی رقم بطور جرمانہ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔جبکہ کمپنیز اور شراکتی کاروبار پر پہلے ڈیفالٹ اور ایک سے زائد ڈیفالٹ کرنے پر 5لاکھ روپے تک جرمانے کی تجویز دی گئی ہے ۔ کمشنرز کی جگہ پنجاب ریو نیو اتھارٹی کو اختیارات منتقل کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ریسٹورنٹس سروسز کے لئے دوہرے ٹیکس کا نظام متعارف کرانے کی تجویز دی گئی ہے ، اگر ادائیگی ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ ، موبائل والٹ یا کیو آر کوڈ کے ذریعے کی جائے تو ٹیکس کی شرح 8فیصد کرنے کی تجویز ہے جبکہ اس کے علاوہ ادائیگیوں پر ٹیکس16فیصد کی شرح سے نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ سیلز ٹیکس ایکٹ سیکنڈ شیڈول پارٹ تھری کی 12سروسز پر سیلز ٹیکس کی شرح 8فیصد کر نے کی تجویز دی گئی ہے جن میںٹرانسپورٹ ،ایجنسی سروسز، ٹرانسپورٹ سروسز،سکیورٹی گارڈ سروسز،ٹیلی کمیونیکیشن سروسز،ٹی وی کیبل سروسز ،ٹی سی ایس ،کارگو سروسز،ہوٹل سروسز(شادی ہال وغیرہ)،کنسٹرکشن سروسز( بلڈنگ ،روڈز،آرکیٹکٹ،انجینئرنگ ،نقشہ ڈیزائن سروے )،قانون سروسزاور وکیل،رینٹ اے کار کی سروسز،مارکیٹنگ ایڈورٹائزنگ سروسز اورکنسلٹنسی سروسز شامل ہیں۔علاوہ ازیں سیلز ٹیکس ایکٹ سیکنڈ شیڈول میں مزید دو سروسز شامل کر دی گئی ہیں میں فارن ایکسچینج سروسز فراہم کرنے والا کوئی بھی شخص ایکسچینج کمپنی ،فاریکس ڈیلراور منی چینچر پر 3فیصد کی شرح سے ٹیکس ود آئوٹ ان پٹ ٹیکس ایڈ جسٹمنٹ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ ایونٹ مینجمنٹ سروسز پر 8فیصد ٹیکس ود آئوٹ ان پٹ ٹیکس ایڈ جسٹمنٹ عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔ آئندہ مالی سال کے فنانس بل میں زمین کی بنیاد پر زرعی انکم ٹیکس کی وصولی کی شرح میں اضافے کی تجویز دی گئی ہے جس کے مطابق 12.5ایکڑزرعی رقبہ زرعی انکم ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دینے کی تجویز ہے،12.5ایکڑ سے زائد اور 25ایکڑ رقبے تک زرعی انکم ٹیکس کی فی ایکڑ وصولی 300روپے سے بڑھا کر1000روپے فی ایکڑ،25ایکڑ سے زائد اور50ایکڑتک زرعی انکم ٹیکس کی وصولی فی ایکڑ400سے بڑھا کر1000روپے فی ایکڑ اور 50ایکڑ سے زائد زرعی اراضی پر فی ایکڑ زرعی انکم ٹیکس کی وصولی 500روپے سے بڑھا کر 1000ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے ۔ اسی طرح باغات کے لئے تجویز دی گئی ہے کہ نہری پانی استعمال کرنے والے باغات پر زرعی انکم ٹیکس کی وصولی فی ایکڑ600روپے سے بڑھا کر1000روپے فی ایکڑ اور بارانی باغات پر زرعی انکم ٹیکس کی فی ایکڑ وصولی 300روپے سے بڑھا کر 500روپے فی ایکڑ کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔اسی طرح آبپاشی کی بنیاد پر فصل کی بجائے فلیٹ ریٹ پر آبیانہ کی شرح میںاضافے کی تجویز دی گئی ہے جس کے تحت خریف کی فصلوں کے لئے آبیانہ فی ایکڑ1650روپے جبکہ ربیع کی فصلوں کے لئے فی ایکڑآبیانہ 850روپے جبکہ منظور شدہ باغات کو پانی کی فراہمی کے لئے آبیانہ2000ہزار روپے فی ایکڑ سالانہ اور ریاستی ملکیتی لفٹ اریگیشن کیلئے آبیانہ 2250روپے فی ایکڑ سالانہ کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں