لاہور (بیوروچیف) عمر بڑھنے کے ساتھ بال سفید ہونا غیرمعمولی نہیں ہوتا۔جوانی میں بال جس رنگ کے بھی ہوں مگر عمر بڑھنیکے ساتھ وہ سفید ہونے لگتے ہیں، کیونکہ وقت کے ساتھ بالوں کی جڑوں میںرنگت کو برقرار رکھنے والے میلانین نامی خلیات کے افعال متاثر ہوتے ہیں۔ویسے تو بالوں میں سفیدی عمر بڑھنے کی نشانی سمجھی جاسکتی ہے مگر ایسا کسی بھی عمر میں ہوسکتا ہے۔زندگی میں ہر فرد کو وقتاً فوقتاً تنائو کا سامنا ہوتا ہی ہے مگر دائمی تنا نیند کے مسائل، انزائٹی، کھانے کی اشتہا میں تبدیلی اور ہائی بلڈ پریشر کا باعث بن سکتا ہے۔حالیہ تحقیقی رپورٹس میں تنا اور بالوں میں قبل از وقت سفیدی کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا ہے۔اگر اچانک بال سفید ہونے لگے ہیں تو اس کی وجہ تنا کا شکار رہنا بھی ہوسکتا ہے اور اس پر قابو پانے سے بالوں کی رنگت بحال ہونے کا کسی حد تک امکان ہوتا ہے۔آٹو امیون امراض میں جسم کے مدافعتی خلیات صحت مند خلیات پر حملہ آور ہوجاتے ہیں، بالخصوص بالوں کے خلیات پر یہ حملہ ہوتا ہے۔اس حملے کے نتیجے میں بال سفید ہونے لگتے ہیں۔جوانی میں بالوں میں سفیدی کی ایک وجہ جسم میں وٹامن بی 12 کی کمی بھی ہوسکتی ہے۔یہ وٹامن جسمانی توانائی کے لیے اہم کردار ادا کرتا ہے جبکہ بالوں کی نشوونما اور رنگت کے لیے بھی اس کا کردار اہم ہوتا ہے۔ہمارے جسم کو خون کے صحت مند سرخ خلیات کے لیے بھی وٹامن بی 12 کی ضرورت ہوتی ہے، یہ خلیات بالوں سمیت پورے جسم میں آکسیجن پہنچانے کا کام کرتے ہیں، اس وٹامن کی کمی سے بالوں کے خلیات کمزور ہوتے ہیں جس کا نتیجہ قبل از وقت سفیدی کی شکل میں نکلتا ہے۔بالوں کی قبل از وقت سفیدی اور تمباکو نوشی کے درمیان بھی تعلق موجود ہے۔ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ تمباکو نوشی کرنے والے افراد میں 30 سال کی عمر سے قبل بال سفید ہوسکتے ہیں۔تمباکو نوشی سے خون کی شریانیں سکڑ جاتی ہیں جس سے بالوں تک خون کی فراہمی بھی متاثر ہوتی ہے اور بال گرنے لگتے ہیں۔اسی طرح تمباکو میں موجود زہریلے مواد سے بھی بالوں کی جڑوں پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور بال جلد سفید ہوجاتے ہیں۔




