فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) سینئر سیاستدان اور سابق وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے پٹرولیم رانا زاہد توصیف نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل سیکٹر ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہے۔ جس سے لاکھوں افراد کا روزگار وابستہ ہے۔ مگر حکومت کی مسلسل عدم توجہی، مہنگی بجلی، مہنگی گیس اور مہنگی پٹرولیم مصنوعا ت سمیت بیجا ٹیکسز کے باعث انڈسٹری کو بتدریج تالے لگ رہے ہیں۔ لہذا ایکسپورٹرز کو مشکلات اور اضطراب سے نکالنے کے لیے طویل المدتی پالیسی اپنانا ہوگی۔عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات کی تیزی سے کم ہوتی قیمتوں کے رجحان کے باوجود حکومت کی جانب سے قیمتیں برقرار رکھنا ناقابل فہم ہے۔ حالانک عوام کو ریلیف ملنا چاہیئے تھا انہوں نے مزید کہا کہ ملکی برآمدات کے فروغ اور مسابقتی عمل کے لیے بجلی اور گیس قیمتوں کو خطہ کے دیگر ممالک کے برابر لانا لازم ہے۔ اگر حکومت توجہ دے تو ٹیکسٹائل برآمدات کو 30 ارب ڈالرز تک بڑھایا جا سکتا ہے۔کیونکہ ملکی انڈسٹری میں برآمدات بڑھانے کی خاطر خواہ استعداد موجود ہے۔ رانا زاہد توصیف نے کہا کہ نہ صرف صنعت کار اور تاجر بلکہ موجودہ وقت میں عام آدمی بجلی کے بھاری بلوں کی ادائیگی سے قاصر ہے۔ حکمران مختلف سکیموں کے تحت قوم کو بھکاری بنانے کی بجائے سستی بجلی کی فراہمی کے لیے اقدامات کریں تو قوم خود بخود خوشحال ہو جائے گی۔ اور ملک میں مہنگائی کا بتدریج خاتمہ ہوگا۔




