فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) صاحبزادہ حامدرضا کی جیل میں صحت خراب اور مسلسل بگڑ رہی ہے۔ صاحبزادہ حامد رضا کو طبی بنیادوں پر رہا کیا جائے اور عدالتیں انصاف کے تقاضے پورے کریں۔ پوری قوم جانتی ہے صاحبزادہ حامد رضا نے 9مئی کے حوالہ سے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ سنی اتحاد کونسل صاحبزادہ حامد رضا کو ملٹری ٹرائل کی پیش کش کرتی ہے۔ دہشتگردی کے خلاف قربانیاں دینے والوں پر دہشتگردی کے پرچے اور سزائیں دینا قابل مذمت ہے۔ سنی اتحاد کونسل کے قائم مقام چیئرمین صاحبزادہ حسن رضانے جامعہ رضویہ میں علماء و مشائخ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطا ب کرتے ہوئے کہا ہے کہ سنی اتحاد کونسل کے منشور میں دہشت گردی کا خاتمہ پہلی ترجیح ہے ۔ ہم ملکی استحکام کے حامی ہیں ۔سنی اتحاد کونسل استحکام پاکستان کے لیے اپنا کردار ادا کرتی رہے گی۔ صاحبزادہ حامد رضا سنی اتحاد کونسل کے منشور کو لے کر آگے بڑھے ۔ سیاسی مخالفین نے صاحبزادہ حامد رضا اور انکے بھاری مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ۔ صاحبزادہ حامد رضا سے قومی اسمبلی کی سیٹ چھین کر پابند سلاسل کرنا قابل مذمت ہے ۔ صاحبزادہ حامد رضا اعلیٰ عدالتوں سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں ۔ صاحبزادہ حامد رضا کی صحت کے حوالے سے میڈیکل بورڈ بنایا جائے۔ ان کی بگڑتی صحت کے پیش نظر انہیں فوری اسپتال منتقل کیا جائے ۔ پی ٹی آئی قیادت اور کارکنوں کے ساتھ کھڑے ہونے پر شکر گزار ہیں ۔ آگاہ کرنے کے باوجود جیل انتظامیہ صاحبزادہ حامد رضا کو طبی سہولتیں نہیں دے رہی ۔ صاحبزادہ حامد رضا کو طبی بنیادوں پر رہا کیا جائے ۔ صاحبزادہ حسن رضا نے علماء و مشائخ سے ملک گیر رابطوں کا اعلان کرتے ہوئے یکم جولائی سے وسطی پنجاب کے دوروں کا اعلان کیا۔ دوروں کے دوران سول سوسائٹی، علمائ، وکلاء اور کارکنان کیساتھ رابطوں کو بڑھا کر ملک میں دہشت گردی ، انتہا پسندی، فرقہ واریت کے خلاف صاحبزداہ حامد رضا کے کردار پر آگاہی دی جائے گی۔پریس کانفرنس کے موقع پر پیر طارق ولی چشتی، علامہ محمد سلطان چشتی، علامہ صاحبزادہ مقبول گیلانی، پیر علی حیدر حسنی، میاں عاطف نذیر ایڈووکیٹ، مولانا شمس الرحمن اویسی، مولانا مفتی رحمت اللہ رضوی، مولانا محمد عمران رضوی، ملک بخش الٰہی، صدام بھروانہ، چوہدری خرم شہزاد مصطفائی و دیگر بھی موجود تھے۔




