ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ میں نیشنل سیڈ کے حوالے سے اجلاس

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ، فیصل آباد میں ”نیشنل سیڈ اور زرعی بائیوٹیکنالوجی پالیسی2025 فریم ورک، وژن اور مواقع” کے حوالے سے ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا۔مشاورتی اجلاس میں ڈاکٹر انجم علی بٹر، ہیڈ آف ایکسٹرنل کوارڈینیشن یونٹ، محکمہ زراعت پنجاب نے خصوصی شرکت کی جبکہ شبیر احمد خان، ایڈیشنل سیکرٹری (ٹاسک فورس) اور بریگیڈئیر طلحہ افتاب ڈائریکٹرگرین انیشی ایٹو پاکستان نے آن لائن شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد انجم علی بٹر نے کہا کہ اس اجلاس کا مقصد ملکی سطح پر یکساں سیڈ پالیسی کی تیاری و نفاذ کی راہ ہموار کرناہے تاکہ مختلف فصلوں کے معیاری بیج کی دستیابی اورآئی ٹی کی کاشتکار وں تک آسان رسائی ممکن ہوسکے۔ اس حوالے سے پالیسی فریم ورک، مستقبل کے وژن، درپیش چیلنجز اور دستیاب مواقع پر ماہرین، پالیسی سازوں، سائنسدانوں اور متعلقہ اداروں کے درمیان موثر مشاورت کو فروغ کیلئے یہ اجلاس اہم سنگ میل ثابت ہو گا۔انہوں نے کہا کہ دنیا میں زراعت تیزی سے بدل رہی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی، پانی کی قلت، کیڑے و بیماریاں، بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت اور محفوظ و معیاری خوراک کی بڑھتی ہوئی ضرورت نے زرعی نظام کو نئے چیلنجز سے دوچار کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں معیاری بیج کسان کے لئے سب سے موثر اور بنیادی ٹیکنالوجی بن چکا ہے۔ ڈاکٹر انجم علی نے مزید کہا کہ ایک اچھا بیج بہتر جینیاتی خصوصیات، زیادہ پیداوار، بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف مدافعت، گرمی اور خشک سالی برداشت کرنے کی صلاحیت اور کسان کے لیے زیادہ منافع کا ضامن ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن ممالک نے اپنی زراعت میں نمایاں ترقی کی، انہوں نے سب سے پہلے اپنے بیج کے نظام کو مضبوط بنایا۔انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھی اب اسی سمت ایک اہم قدم اٹھا چکا ہے۔گزشتہ دو برسوں کی وسیع مشاورت اور مسلسل کاوشوں کے بعد وفاقی کابینہ نے قومی زرعی بایوٹیکنالوجی پالیسی اور قومی بیج پالیسی کی منظوری دی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں