روایتی کاشتکاری کی بجائے جدید طریقہ کو رواج دیا جائے

فیصل آباد (سٹاف رپورٹر) آبی کمیابی، مٹی کی زرخیزی میں مسلسل کمی اور زرعی اراضی کے سکڑتے ہوئے رقبے جیسے مسائل مستقبل میں غذائی عدم استحکام کو مزید سنگین بنا سکتے ہیں جبکہ زرعی درآمدات کے بڑھتے ہوئے بل کے پیش نظر موسمیاتی تبدیلیوں سے ہم آہنگ زراعت کو فرو غ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار زرعی یونیورسٹی فیصل آباد کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی نے پاکستان جرنل آف ایگریکلچرل سائنسز کے ادارتی بورڈ کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے ادارتی بورڈز کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کی محنت سے جریدے کا امپیکٹ فیکٹر 0.6 سے بڑھ کر 1.3 تک پہنچا جو ایک قابلِ قدر کامیابی ہے۔ انہوں نے سائنس دانوں پر زور دیا کہ وہ موجودہ زرعی چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے نئی ٹیکنالوجیز کی تیاری اور ان کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں مزید تیز کریں تاکہ زرعی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ زراعت ملکی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں