وزیراعظم شہباز شریف نے ملک میں ایڈز اور ہیپاٹائٹس جیسے متعدی امراض کے بڑھتے ہوئے خطرات پر قابو پانے کیلئے غیر قانونی سرنجوں کی تیاری اور استعمال کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دیتے ہوئے کہا ہے کہ عوام کے تحفظ کیلئے جامع قومی’ حکمت عملی’ مؤثر قانون سازی اور متعلقہ اداروں کے درمیان قریبی تعاون ناگزیر ہے۔ وزیراعظم کی زیرصدارت ایڈز اور ہیپاٹائٹس سی جیسے متعدی امراض کی روک تھام سے متعلق اعلیٰ سطح کا جائزہ اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر میں بیماریوں کے پھیلائو کو روکنے کیلئے کیے گئے اقدامات کا جائزہ بھی لیا گیا جو کہ ایک خوش آئند اقدام ہے۔ متعدی امراض کے فوری سدباب کیلئے ملک بھر میں غیر معیاری سرنجوں کی تیاری اور استعمال پر مکمل پابندی عائد کی جائے تاکہ ہمارا معاشرہ ہی نہیں بلکہ ہماری نوجوان نسل بھی محفوظ رہ سکے جبکہ خلاف ضابطہ سرنجوں کے استعمال میں ملوث یا اس کی روک تھام میں مجرمانہ غفلت کے مرتکب افراد اور اس گھنائونے کاروبار میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے اور ہسپتالوں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ انہوں نے متعدی امراض پر قابو پانے کیلئے ماہرین پر مشتمل خصوصی کمیٹی تشکیل دینے’ صوبوں سے مشاورت یقینی بنانے اور وزارت قانون کو متعلقہ اداروں کے ساتھ مل کر قانونی اور ضابطہ جاتی نظام میں ضروری ترامیم تجویز کرنے کی ہدایت کی۔ قومی سطح پر جامع حکمت عملی تشکیل اور اس پر مؤثر عملدرآمد ہی اس مسئلے کا پائیدار حل ہے۔ پبلک ہیلتھ کے ماہرین’ وزارت قومی صحت ڈریپ کے نمائندے طبی آلات تیار کرنے والی صنعت سے مشاورت کر کے سرنجوں کے ذریعے متعدی امراض کے پھیلائو کی مستقل روک تھام کیلئے مؤثر پالیسی اقدامات تجویز کرے اور گورنمنٹ کے رجسٹرڈ اداروں سے ہی سرنجوں کو خریدا جائے۔ متعدی امراض کے خلاف جاری کوششوں میں بین الاقوامی شراکت داروں کا تعاون نہایت اہم ہے تاکہ اس گھنائونے کاروبار کو روکا جا سکے جبکہ علاج میں استعمال ہونے والے طبی آلات کی مقامی تیاری اور شعبہ صحت سے وابستہ عملے کی عالمی معیار کے مطابق تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے۔ متعدی امراض کے سدباب کے لیے کیے گئے اقدامات پر بریفنگ بھی دی گئی۔ قومی سطح پر جامع حکمت عملی کی تشکیل اور موثر نفاذ ہی اس مسئلے کا حل ہے۔ متعدی امراض کے پھیلائو کے سدباب کی جاری کوششوں میں بین الاقوامی شراکت داروں کی معاونت انتہائی اہم ہے، علاج سے متعلقہ آلات کی مینوفیکچرنگ اور شعبہ صحت کے عملہ کی عالمی معیار کی ٹریننگ پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سرنجوں کا عام استعمال کئی بیماریوں کا باعث بھی بن رہا ہے۔ وزیراعظم میاں شہباز شریف نے غیر معیاری سرنجوں کی روک تھام کیلئے جو عملی قدم اٹھایا ہے اس کے نہ صرف نتیجہ خیز نتائج برآمدہونگے بلکہ غیر معیاری سرنجن کا استعمال کرنے والوں کا محاسبہ بھی ہو گا۔ غیر معیاری ادویات کی کئی میڈیکل سٹوروں پر فروخت بھی دیدہ دلیری سے ہو رہی ہے اور ان کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے، ان میڈیکل سٹوروں کا بھی سدباب ہونا چاہیے۔ کئی جگہوں پر غیر قانونی میڈیکل سٹور بھی کھلے ہوئے ہیں۔ یہاں پر نہ صرف غیر معیاری ادویات کی فروخت ہو رہی ہے بلکہ یہی میڈیکل سٹور ماہانہ منتھلیوں پر چل رہے ہیں۔ ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ ان ہی میڈیکل سٹوروں بغیر کسی سینئر ڈاکٹر کے نسخے ادویات بھی بک رہی ہے۔ وزارت قانون کو بھی اس حوالے سے قانونی کارروائی عمل میں لانا ہو گی۔ غیر معیاری سرنجوں کے کاروبار میں ملوث یا ان میں مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لانی ہو گی تاکہ اس ناسور کو جڑ سے ہی پھینکا جائے اسی میں ہمارے معاشرے اور قوم کی بقاء ہے۔




