تحصیل گوجرہ آبادی کے لحاظ سے ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ کی سب سے بڑی تحصیل ہے ۔ گوجرہ کے بڑھتے ہو ئے مسائل عوام کیلئے درد سر بنے ہو ئے ہیں ۔ افسران کی مسائل سے چشم پوشی نے عوام کو ذہنی مریض بنا دیاہے۔ ٹوبہ روڈ انڈر پاس کی تعمیرنہ ہونے سے عوام کی مشکلا ت میں اضافہ ہو چکا ہے ۔ حکومتی لاپرواہی سے ملحقہ آبادیوں کے عوام مسائل کا شکار ہیں ۔ سکول وکالجز کے طلبہ کو شدید دشواریاں درپیش ہیں اور مریضوں کو ایمر جنسی کی حالت میں ہسپتال منتقل کر نے میں شدیددقت کا سامنا کر نا پڑتا ہے۔انڈر پاس کی سہو لت نہ ہو نے کی وجہ سے ریلو ے لائن کراس کرتے وقت کئی افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور کئی معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔ حکومت کی طرف سے محلہ سراج ٹائو ن ، قادٍر کالونی، نشاط آباد ، ولی آباداور شاہ آباد کالونی سمیت دیگر ملحقہ آبادیوں کے عوام کے پر زور مطالبہ پر انڈر پاس کی سہولت دینے کیلئے تعمیراتی منصوبہ دیا گیا تھا جس پر کافی حد تک کام مکمل ہوااور بعد ازاں بعض ناگزیر وجوہا ت کی بناء پرٹھیکیدار نے اس منصو بہ کی تکمیل کا عمل روک دیاجو ابھی تک رکا ہواہے جبکہ اس منصوبہ کی تعمیر کیلئے منگوایاگیا میٹریل اور مشینری وغیرہ ضائع ہو رہی ہے۔ مذکورہ مقام پر گندہ پانی کھڑاہونے سے مچھروں سمیت دیگر حشرات جنم لے رہے ہیں جس سے اہل علاقہ مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں جبکہ مذکورہ علاقہ میں گندگی اور کوڑا کرکٹ کے ڈھیر بھی لگ چکے ہیں۔جس پر مقامی انتظامیہ مکمل خاموشی اختیار کئے ہو ئے ہے ۔حکومت کی طرف سے پٹرولیم مصنوعات میں واضح حالیہ کمی کے باوجود گوجرہ میںاشیا ء خوردونوش اور ٹرانسپور ٹ کرایو ں میں کمی نہ ہوسکی۔مقامی انتظامیہ نے مکمل طور پر خاموشی اختیار کر رکھی جس کی وجہ سے گرانفروشوں کوکھلی چھٹی ملی ہو ئی ہے واضح رہے کہ جب پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کیا گیا تھا اس وقت ٹرانسپورٹ کرا یو ں اور اشیا ء خوردونوش کی قیمتو ں کو بڑھا دیا گیا تھا اب پٹرولیم قیمتو ں میں حالیہ کمی کے بعد اسی ریشو سے قیمتوںمیںکمی کروائی جانا ازحد ضروری ہے اور خلاف ورزی کرنے وا لو ں کے خلا ف سخت قا نونی کا رروا ئی کی جا نی چاہئے خاص طور پرپرا ئس کنٹرول مجسٹریٹس صاحبان کو بھی متحرک کیا جا ئے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ا شیائے ضروریہ کی قیمتوں کوکنٹرول کر نے کیلئے افسران دفاتروں کی بجائے باہر نکلیں اور دکانوں پر نرخ ناموں کوچیک کریں بلکہ ریٹ لسٹوں کو دکانوں پر نمایاں طور پر آویزاں کروائیں اور گرانفروشوں کا قبلہ بھی درست ہو سکے۔ اس کے علاوہ ٹرا نسپور ٹ کرا یو ں میں بھی کمی کروائی جائے تاکہ مہنگائی کی ستائی ہوئی عوام کو ریلف مل سکے۔ پٹرول کی قیمتوں میں کمی کے بعد بھی ٹرا نسپورٹرز سا بقہ کرا ئے ہی وصول کر رہے ہیںجن کا محاسبہ وقت کی ضرورت ہے۔ یہاںپرشہریوں کو لاہور کیلئے قبل ا زیں بد رایکسپریس کی سہولت حاصل تھی جو کہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر گوجرہ سے فیصل آباد تک بند کر دی گئی جس کی وجہ سے شہر ی ایک بہترین سفری سہولت سے محروم ہو گئے ۔یاد رہے کہ براستہ گوجرہ لاہور، کراچی شالیمارایکسپریس اور قراقرم ایکسپریس چل رہی ہیں جن کا گوجرہ میں سٹاپ نہیں ہے لہذاگوجرہ کے عوام کیلئے مذکورہ دونوں ٹرینوں کا سٹاپ دیا جائے، بدر ایکسپریس کو دوبارہ گوجرہ سے لاہور تک چلایا جائے ۔ گوجرہ میں فروٹ فروشوں نے مہنگائی میں خود ساختہ اضافہ کر کے عوام کا خون نچوڑنا شروع کر رکھاہے گراں فروشوں کو انتظامیہ کی جانب سے کھلی چھٹی ملی ہو ئی ہے اور فروٹ فروش کھلے عام منہ مانگے داموں پر خریداروں کو لوٹ رہے ہیں شہر بھر میں مقررہ نرخوں سے زائد قیمتوں پر فروخت کا عمل جاری ہے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔ پرا ئس کنٹرول مجسٹریٹس کو متحرک کیا جا ئے تا کہ عوا م کو ریلیف فراہم کیا جا ئے۔ شہر بھر کے بازاروں میں تجاوزات قائم ہو نے کی وجہ سے خریدار مرو خواتین اور راہ گیروں کے لئے مشکلات پیدا ہو چکی ہیں لوگوں کا گزرنامحال ہو کر رہ گیا ہے جبکہ دکانداروں نے بڑی دیدہ دلیری سے تجاوزات قائم کر رکھی ہے انتظامیہ بے بسی کی تصویر بنی ہو ئی ہے ۔قابل ذکر امر یہ ہے کہ میونسپل کمیٹی کی طرف سے گوجرہ کے بازاروںکے اطراف میں سنگل لگا کر قیدی بنا دیاہے۔جسکی وجہ سے دکانداروں کے کاروبار ٹھپ ہو چکے ہیںجبکہ ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ انتظامیہ نے کمائی کاانوکھاطریقہ اپناتے ہو ئے بازاروں کے درمیان میں پارکنگ قائم کردی ہے اور بازاروں کو ٹھیکے پر دے دیاہے جس کی وجہ سے بازاروں سے گزرنے کے راستے بند ہو چکے ہیں۔ انتظامیہ شہریوںکو سہولیات فراہم کر نے کی بجائے مشکلات میں مسلسل اضافہ کا باعث بن رہی ہے ۔شہریوں کے مطابق کہ انتظامیہ شہریوں سے مشاورت کی بجائے ازخود ہی فیصلے کر کے حکم جاری کر نے میں مصروف ہے۔ان مسائل کے حل کیلئے حکومت اور انتظامیہ کو ٹھوس اقدامات اٹھانا وقت کا اہم تقاضہ ہے۔




