جڑانوالہ (نامہ نگار) جڑانوالہ ستھرا پنجاب کے ورکر کی 12سالہ بیٹی (گھریلو ملازمہ)کو لاہور میں کوٹھی مالک نے مبینہ طور پر تشدد کرکے قتل کر دیا،بچی کی لاش گھر پہنچنے پر پورے گائوں کی فضا سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار ہو گئی،پولیس نے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کوٹھی مالک صوفی اعجاز کو حراست میں لیکر کارروائی کا آغاز کر دیا ہے،تفصیلات کے مطابق جڑانوالہ کے نواحی گائوں چک نمبر 357 گ ب نیلیانوالہ کا رہائشی جاوید ولد ریاست ستھرا پنجاب میں محنت کرکے گھر کا گزر بسر کرتا ہے اور اسکی پانچ بیٹیاں ہیں گھر کے اخراجات کا بوجھ کم کرنے کیلئے جاوید نے اپنی بڑی بیٹی 12 سالہ کنیز فاطمہ کو لاہور گلبرگ 3 فیروز پور میں رہائش پذیر صوفی اعجاز ولد رمضان کی کوٹھی میں ملازمت پر رکھوایا،بچی کے لواحقین کا کہنا ہے کہ ایک ماہ 10 دن بعد انکی بیٹی کو کوٹھی مالک نے مبینہ تشدد کرکے قتل کر دیا ہے اور مبینہ طور پر قتل کے بعد انہیں فون پر اڑھائی گھنٹے بعد اطلاع دی جاتی ہے کہ کینز فاطمہ گلاب دیوی ہسپتال میں داخل ہے لواحقین کا مزید کہنا ہے کہ گلاب دیوی سپتال کے ڈاکٹرز کے مطابق بچی کو جب ہسپتال لایا گیا تو وہ اڑھائی گھنٹے قبل مر چکی تھی بچی کو مردہ حالت میں گلاب دیوی سپتال لایا گیا ہے اطلاع پر پولیس تھانہ نصیر آباد لاہور نے پوسٹمارٹم کے بعد بچی کی لاش کو لواحقین کے حوالہ کر دیا ہے بچی کی لاش جب گھر پہنچی تو پورے گائوں کی فضا سوگوار اور ہر آنکھ اشکبار تھی بچی کے لواحقین و اہل دیہہ نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف،آئی جی پنجاب سمیت دیگر ارباب اختیار سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ بچی کو مبینہ تشدد کے بعد قتل میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دلوائی جائے لاہور پولیس نے بچی کے والد کی مدعیت میں مقدمہ درج کرکے کوٹھی مالک کو حراست میں لیکر مزید کارروائی کا آغاز کر دیا ہے پولیس کا کہنا ہے کہ وقوعہ کی تحقیقات جاری ہے اور میرٹ پر تفتیش کرکے بچی کے لواحقین کو انصاف و تحفظ فراہم کیا جائے گا۔




