اعتدال کا سفیر۔۔۔نصیرالدین نصیر

افراط وتفریط۔ ہمارا سب سے بڑا مسئلہ۔ شاید یہ ہمارا ہی نہیں بلکہ یہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ یقینا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر نہیں ہو سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ کہیں نہ کہیں آپ کو افراط وتفریط کے بارے میں آگاہی کے سلسلے میں آواز بلند ہوتی نظر آتی رہی ہوگی۔ چند ہی سال قبل ایک آواز بڑی نمایاں، بڑی پراثر اور بڑی ہی گرجدار آواز۔ یہ وہ آواز تھی جس نے ہر شخص کو سوچنے پر مجبور کیا جس نے لوگوں کو اپنے رویے تبدیل کرنے پر مجبور کیا اور جس نے دماغوں کو جھنجھوڑا اور ذوق شوق پیدا کرکے دلوں کو گرمایا۔ یہ وہ آواز تھی جس نے سوشل میڈیا سے وابستہ ہر شخص کی توجہ حاصل کی۔ پیر نصیر الدین نصیر۔ شاعر، ادیب، محقق، دانشور، مولف، قاری، عالم، مبلغ، نقاد، مصلح، ماہر علم موسیقی اور شعلہ بیان مقرر۔ ایک شخص کے اندر کتنے کردار اور ہر کردار کا ایک منفرد اور نویکلا رنگ۔ پی ٹی وی کے ہر نعتیہ مشاعرے کا آخری شاعر۔ حمد اور نعت کا ایک اپنا منفرد انداز۔ وحدانیت پیش نظر اور شرک کا پورا شعوری احساس اور کلام میں پوری احتیاط۔ سوز وگداز، رقت آمیز لہجہ، ذوق شوق، عشق و محبت، وارفتگی، اعتدال اور شریعت کی پاسداری اور محتاط رویہ۔”دیں ہمہ اوست”نعتیہ مجموعہ۔ ”آغوش حیرت”فارسی رباعیات۔ رنگ تغزل اور روایت اور جدت کے رجحانات کو ملحوظ رکھتے ہوئے غزل کہنے کا ایک نیا اسلوب۔پیمان شب کی غزلیات پڑھیں یا پھر دیگ سے چند چاول چکھنے کے لئے نصرت فتح علی خان کی گائی ہوئی غزل( ان کے انداز کرم ان پہ وہ آنا دل کا۔۔۔ ہائے وہ وقت وہ باتیں وہ زمانہ دل کا) فن کی پختگی، تشبیہات واستعارات، خیالات میں تنوع، سوزوگداز، حسن وعشق، موسیقیت اور غزل روایت اور جدیدیت کا خوبصورت اور حسین امتزاج۔ مناقب اور مرثیے سبحان اللہ سبحان اللہ اور کیا ہی کہنے کیا ہی کہنے۔( تیرے حاسدوں کو ملال ہے یہ نصیر فن کا کمال ہے۔۔۔تیرا قول تھا جو سند رہا تیری بات تھی جو کھری رہی)اور لفظوں کا خوبصورت استعمال( خدا کا شکر ہے زمانے کی قدردانی ہے۔۔۔۔ جوان بھی نہ ہوئے تھے کہ پیر کہلائے)محض شاعری کرنا اور چیز ہے اور اپنے وقت کے جید شعرا میں بیٹھ کر اپنے منفرد انداز میں اپنی شاعری کو پیش کر کے سب میں نمایاں ہونا کوئی آسان کام نہیں اور خصوصاً ایسے حالات میں جب کہ آپ ایک معروف درگاہ کے صاحبزاد ے ہوں، آپ کی شاعری کے مضامین مخصوص ہوں اور محدود بھی ہوں اور آپ روایات کی حدود وقیود کے مکلف بھی ہوں۔ ان سارے عوامل کے باوجود ان کی شاعری کا جگ معترف ہو جائے تو واقعی ان کو اپنے دور کا ایک نامور شاعر کہنا پڑے گا۔ تقابلی جائزے کی ضرورت ندارد۔ شاعری کی خوبصورتی یہ ہوتی ہے کہ شعر سن کر ذوق شوق پیدا ہو۔ کیفیت پیدا ہو اور سر دھننے کو جی چاہے۔ تحت الفظ کا بھی ایک اپنا سرور ہوتا ہے اور اگر شاعر گا کر پڑھے اور اس کی آواز سریلی ہو پھر تو اٹھنے والا بھی بیٹھنے پر مجبور ہوجاتا ہے اور کیفیت کچھ یوں ہوتی ہے( تیری محفل میں جہاں بیٹھ گئے بیٹھ گئے)۔ نصیر الدین نصیر ویسے تو پیر تھے لیکن وہ گائیکی کے بھی ماہر تھے۔ موسیقی کے فن سے نہ صرف پوری طرح واقف تھے بلکہ سارے آلات موسیقی استعمال کرنا بھی خوب جانتے تھے۔ ادب واحترام کو ملحوظ خاطر رکھ کر بھی یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ ان میں ایک فنکار چھپا ہوا تھا جو حسب ضرورت کھل کھلا کر سامنے آتا تھا اور سامعین کو متاثر کرتا تھا۔ عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ پیران عظام اور صاحبزادگان درگاہوں میں اپنے آپ کو مریدین سے ملنے تک محدود رہتے ہیں اور تحریروتقریر سے احتراز کرتے ہیں لیکن پیر مذکور نے تحریر وتقریر میں بیک وقت نام کمایا اور خوب کمایا۔ ان کے موضوعات بھی روایتی نہیں تھے۔ معاشرے میں مختلف اوقات میں پیدا ہونے والی خرافات کو انہوں نے موضوع سخن بنایا اور پھر قرآن و احادیث کی روشنی میں ان کا رد کیا اور مزے کی بات ہے کہ مخالفت برائے مخالفت کا تاثر بھی پیدا نہیں ہونے دیا، ذوق شوق کو برابر برقرار رکھا اور خوش الحانی کی بدولت خوبصورت تلاوت کرکے اور اشعار کو گا کر اپنی تقاریر کو انتہائی دلچسپ بنایا۔ مختلف مکاتب فکر کے لوگوں کو ایک نئی سوچ بھی دی اور سب کو متاثر بھی کیا۔ ان کے خطابات کے کلپ آج بھی سوشل میڈیا پر سب کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کرتے ہیںعلامہ محمد اقبال ایک جگہ فرماتے ہیں( کہاں سے تو نے اے اقبال سیکھی ہے یہ درویشی۔۔۔۔کہ چرچا بادشاہوں میں ہے تیری بے نیازی کا) تصوف کی تعلیمات میں بے نیازی کا وصف۔ راقم الحروف کی موجودگی میں انہوں نے فیصل آباد میں ایک واقعہ بیان کیا جو کچھ یوں تھا کہ بہت سال قبل پیر صاحب مذکور کو جنرل پرویز مشرف صدر پاکستان نے پیش کش کی کہ وہ ان کی کابینہ میں وزیر کا عہدہ قبول کریں۔ جس کے جواب میں ان کا جواب بلاشبہ لاجواب بقول مرحوم پیر صاحب کہ انہوں نے جواب دیا کہ جنرل صاحب بھلا بادشاہ بھی کبھی وزیر بنے ہیں۔ ہم لوگ بادشاہ ہیں اور ہمارے دروازے پر بے شمار لوگ صرف ہماری جھلک دیکھنے کے لئے گھنٹوں انتظار کرتے ہیں۔ یہ ہے شان بے نیازی اور اس کو کہتے ہیں (کیا عشق کو سمجھا ہے کیا عشق کو جانا ہے۔۔۔۔ ہم خاک نشینوں کی ٹھوکر میں زمانہ ہے)خوش شکل، خوش لباس، خوش گفتار اور خوش خوش رہنے والے پیر نصیر شاید لوکائی کو خوش دیکھنا چاہتے تھے لیکن وہ اندر سے خود خوش نہیں تھے بقول پروفیسر ڈاکٹر ریاض مجید( وقت خوش خوش کاٹنے کا مشورہ دیتے ہوئے۔۔۔۔رو پڑا وہ آپ مجھ کو حوصلہ دیتے پیری مریدی بلکہ تصوف کی دنیا میں جمود توڑنے والا، کفروالحاد اور شرک اور بدعات کے خلاف سر چڑھ کے بولنے والا، عشق ومحبت اور شعرو سخن کی دنیا میں رس گھولنے والا، نفرت اور بغض کے بتوں کو توڑ کر انسانیت کو باہمی محبت اور اخوت کے رشتوں کی بنیاد پر جوڑنے والا اور فصاحت وبلاغت اور منطق ودلیل سے ہم سب کو سوچنے اور آخرت کی فکر کرنے پر مجبور کرنے والا بالآخر شاید سفر زیست میں سفری صعوبتوں کی بدولت تھک گیاتھا اور وہ مورخہ13فروری 2009جہان فانی سے رخصت ہوگیا (مہر علی ایہہ جھوک فناہ دی قائم دائم ذات خدا دی۔۔۔ تیری وسدی وی جھل پل دی اے لایا مہندی خون اجل دی اے)اور بقول مولانا جلال الدین رومی علیہ رحمہ (صورت از بیصورتی آمد بروں۔۔۔۔باز شد آنا الیہ راجعون)۔ ان کا سالانہ عرس 17/18صفر کو گولڑہ شریف میں منعقد ہوتا ہے۔ ان کی زندگی اور ان کی تعلیمات ہمارے لئے مشعل راہ ہیں۔ خصوصاً تقلید کی حدودوقیود کا انہوں نے از سر نو تعین کیا ہے۔ انہوں نے ابلاغ کا سکوپ آف ورک عوام کے سامنے پیش کیا، خانقاہی نظام میں بیٹھے حضرات کو دعوت فکر دی۔ بیعت، شیخ اور پیری مریدی کے اصل تصور کو لوگوں کے سامنے پیش کیا۔ فرقہ بندی کے خلاف آواز اٹھا کر صوفی ازم کی اعتدال پالیسی کا اعادہ کیا۔ اور ہم سب کو مل بیٹھ کر اللہ اللہ کا ورد کرنے پر آمادہ کیا۔ ان کی 36سے زائد تصانیف ہیں جو کہ ان کے علمی قد کاٹھ کو ہم پر واضح کرنے کے لئے کافی ہیں۔ ان کی فارسی رباعیات ایران کی درسگاہوں میں پڑھائی جاتی ہیں
دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں
ڈھنگ کی بات کہے کوئی۔ تو بولوں میں بھی
مطلبی ہوں کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں