ساہیوال (بیورو چیف) ملک بھر میں الیکٹرا نک سگریٹ (ویپ) کے بڑھتے ہوئے استعمال نے والدین، اساتذہ اور سماجی حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ حکومت اس سنگین مسئلے کو انتہائی سنجید گی سے لینے میں ناکام ناکام نظر نا آ رہی ہے، اگر اگر بر وقت مؤثر ر اقدامات اقداما ت نہ نہ کیے گئے تو آنے والے دنوں میں ویپ بھی آئس ہیروئن اور چرس کی طرح ایک خطرناک سماجی وبا کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ شہری حلقوں کے مطابق منافع کی ہوس میں مبتلا عناصر نے جدید طرز کے الیکٹرانک سگریٹ اور مختلف فلیورز والے ویپ مارکیٹ میں متعارف کرا دیے ہیں، جن کی رنگ برنگی پیکنگ اور خوشبودار ذائقے کم عمر بچوں اور نوجوانوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ سکولوں، کالجوں، یو نیورسٹیوں اور یہاں تک کہ رہائشی علاقوں میں بھی بڑی تعداد میں بچے اور نوجوان اس لت کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔ والدین والد یہ کا کہنا ہے کہ کئی کم عمر بچے ویپ کو نقصان دہ دہ نشہ سمجھنے کے بجائے ایک فیشن ن یا جدید رجحان تو تصور کرتے ہیں، جبکہ طبی ماہرین کے مطابق اس کے مسلسل استعمال سے پھیپھڑوں، دل اور اعصابی نظام پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ شہریوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ غیر معیاری اور زائد المیعاد فلیورز نوجوان نسل کی صحت کے لیے مزید خطر ناک ـثابت ہو سکتے ہیں۔




